خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 411
خطبات ناصر جلد نہم ۴۱۱ خطبه جمعه ۱۹ رفروری ۱۹۸۲ء کے لئے ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نیک صالح عورتیں فوت ہوتی ہیں ان میں سے بہت سی بہت بوڑھی ہوتی ہیں ان سے چلا بھی نہیں جاتا۔بڑھاپے کا شکار ، بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو خوبصورت نہیں ہوتیں۔کچھ بدصورت بھی ہوتی ہیں جانے والی لیکن جنت میں جاکے ساری خوبصورت بن جائیں گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑھیا مومنہ سے کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تو اس نے رونا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ میں کہاں مروں کھیوں گی ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم نہیں جاؤ گی۔میں نے یہ کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تم جوان ہونے کی حیثیت میں وہاں جاؤ گی تو جب بوڑھی وہاں جوان ہونے کی حیثیت میں جائے گی تو بدصورت وہاں خوبصورت حیثیت میں جائے گی۔جوانگڑی لولی یہاں سے گئی ہے وہاں صحت مند اعضا، بھر پور نشو ونما کے ساتھ اس دنیا کے لحاظ سے جس کی تفصیل کا ہمیں پتہ نہیں اس لحاظ سے جائے گی تو زَوَجُنُهُم بِحُورٍ عِيْنِ کہ ان کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھا جائے گا بڑھیا سے نہیں جس حالت میں اس نے اس دنیا میں چھوڑی اپنی بیوی بلکہ خود عین کے ساتھ جو جوان بھی ہوگی ، خوبصورت بھی ہوگی ، نیک بھی ہوگی۔بہت تفصیلات قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔بہر حال یہاں حور“ کا لفظ آیا ہے اور حور“ کا لفظ زوج کی حیثیت سے آیا۔جنتی کی زوج ، حور! یہ باونویں سورۃ ہے۔اس سے پہلے چوالیسویں سورۃ ہے (الدخان ) وہ آیت اب میں پڑھ دیتا ہوں۔یہ سورۃ دخان چوالیسویں سورۃ ہے جو باونویں سورۃ سے پہلے ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے متقی امن والے مقام میں ہوں گے۔اگلی سورۃ میں یہ تھا کہ متقی مومن جنتوں میں نعمتیں حاصل کرنے والے ہوں گے۔پہلے یہ سورۃ دخان جو ترتیب کے لحاظ سے پہلی آیت ہے قرآن کریم میں جہاں حور" کا لفظ آیا ہے اس کے آگے پیچھے جو مضمون ہے وہ چوالیسویں سورۃ اور ۵۵ آیت میں ہے کہ متقی امن والے مقام میں ہوں گے۔جنتوں میں، چشموں میں ، ریشم اور تافتہ پہنیں گے یعنی ان کا لباس ایسا ہوگا جو لباس کے مس سے وہ روحانی وو راحت حاصل کر رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے۔