خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 28
خطبات ناصر جلد نہم ۲۸ خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۱ء کر کے ڈاک جو بہت جمع ہوئی تھی وہ نکالنی پڑی لیکن جب بیماری آتی ہے اور بعض دن ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کام نہیں کر سکتا۔تو پھر کام جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پھر جب صحت ہوتی ہے تو کام زیادہ کرنا پڑتا ہے یہ بھی ایک سلسلہ جاری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جس وقت میں اپنے کام میں مشغول ہوں مجھے اپنی بیماری کا احساس نہیں ہوتا اور جس وقت میں دوستوں سے مل رہا ہوں تو اتنی خوشی میں محسوس کر رہا ہوتا ہوں کہ دوست میری کمزوری کا احساس کر ہی نہیں سکتے اور ہمیشہ مجھے یہی کہتے ہیں۔اب بھی ڈاکٹر صاحب نے مجھے یہی کہا کہ آپ دیکھنے میں تو بڑے صحت مند لگتے ہیں۔میں نے کہا میں ہمیشہ ہی اچھار ہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اور دعا کے بغیر تو زندگی کا مزہ بھی نہیں اور دعا کے بغیر ہمیں کچھ مل بھی نہیں سکتا۔نہ ہمیں نہ ہماری نسلوں کو۔نہ آج کے اس انسان کو ہماری دعا کے بغیر کچھ مل سکتا ہے جو ہلاکت کے گڑھے کے کنارے پر کھڑا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ بہت دعائیں کرے اور جماعت احمد یہ کی یہ شان اور علامت ہے کہ اس کی دعاؤں کے بے شمار پہلو ہیں۔کوئی چیز اس کائنات کی ایسی نہیں ہونی چاہیے جو ہماری دعا سے محروم رہے۔اس لئے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ آپ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ ہیں یعنی دنیا کی ہر چیز آپ کی رحمت کی محتاج بھی ہے اور آپ کی رحمت کو حاصل بھی کر رہی ہے۔فیضانِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وسعتوں میں عالمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ جو آپ کے در کے غلام ہیں ان کی دعاؤں کو بھی اس عالمین کا احاطہ کرنا چاہیے۔اس وقت انسانیت ہماری دعاؤں کی بہت محتاج ہے۔اس وقت ہمارے اپنے بھائی ہماری دعاؤں کے بہت محتاج ہیں۔اس وقت ہماری اپنی نسل ہماری دعا کی بہت محتاج ہے۔اس وقت ہماری دعا کرنے کی طاقت اور ہمت ہماری دعا کی بہت محتاج ہے۔میں نے علی وجہ البصیرت میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔محسوس کیا ہے کہ یہ دنیا کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے اور اس کے مشاغل کچھ اس قسم کے ہیں کہ اگر آدمی ہمیشہ چوکس ہو کر اور بیدار ہو کر دعا کی طرف متوجہ نہ رہے تو دعا میں غفلت کر جاتا ہے اس لئے بار بار میں جماعت کو دعا کی طرف توجہ