خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 396 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 396

خطبات ناصر جلد نهم ۳۹۶ خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ء کر کے اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں پیار دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔تو بی۔اے اور ایم۔اے یا بی۔ایس سی اور ایم۔ایس۔سی (میں سمجھتا ہوں کہ ) درجنوں ہمیں چاہیں اس وقت۔اس لئے کہ پہلے تھوڑے آدمی کام کر لیتے تھے، تھوڑا کام تھا۔پہلے بوڑھے بھی کام کر لیتے تھے کیونکہ بوجھ کم تھا کام کرنے والے پر لیکن خدا نے فضل کیا۔وہ ایک جسے ساری دنیا نے دھتکار دیا تھا، ایک کروڑ سے زیادہ بن گیا تو ایک کا کام جو تھا وہ کروڑ گنے زیادہ بھی تو ہو گیا۔تو اس ذمہ داری کو اٹھانے کے لئے ہمیں واقفین چاہئیں پڑھے لکھے۔پہلی شرط۔اخلاص رکھنے والے۔دوسری شرط۔اخلاص کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا کچھ مطالعہ کر چکے ہوں اور باقی ہم ٹریننگ دیں گے۔تیسرے۔ان کو اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق تربیت دی جائے گی مثلاً کسی کو ایک سال کی تربیت اگر ہم سمجھیں گے کہ یہ اب قابل ہو گیا ہے بوجھ اٹھانے کے کسی کو دو سال کی تربیت ،مگر چاہیے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی ایک حد تک معرفت رکھنے والا ہو اور جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے عشق کا جذبہ پایا جائے ، جس کے سینے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت لہریں لے رہی ہو ، جو ہر وقت ہر آن ہر گھڑی اپنی زندگی میں اپنے نفس کو بھول کر صرف خدا اور محمد کو یا درکھتا ہو، تو ایسے لوگ آگے آئیں۔ایسے بچوں کو ماں باپ پیار اور محبت کے ساتھ اور اس حقیقت کو بتاتے ہوئے آگے لائیں۔پھر بہت سی چیزیں اور بھی دیکھنی پڑیں گی اور بعض کو جماعت قبول کر لے گی دعاؤں کے بعد اور بعض کو وقتی طور پر یا مستقل طور پر رد کر دے گی۔مختلف حالات پیدا ہوتے ہیں۔ایک سال دو سال لگ جائیں زیادہ سے زیادہ لیکن آنے شروع ہو جانے چاہئیں بی۔اے ، ایم۔اے نوجوان۔نوجوان سے میری مراد ہے کہ ایسابی۔اے یا ایم۔اے جس کو ایم۔اے اور بی۔اے کا امتحان پاس کئے ہوئے پانچ سات سال سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو۔میں نے وقف بعد ریٹائر منٹ کی ایک سکیم چلائی تھی لیکن حالات دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر وہ سارے واقفین غالباً سو سے بھی زیادہ ہیں جنہوں نے وقف کیا ہے لے بھی