خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 328
خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۸ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء جانے کے سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیئے۔لیکن کیسے پیدا کئے؟ اس شحض نے نہیں بتایا شرم کے مارے۔لیکن کسی اور Source ( سورس) نے مجھے بتایا کہ ابھی ہفتہ ہی گزرا تھا اس قرض پر کہ اسی بنک نے جہاں اس کا اکاؤنٹ تھا اُس کو پانچ سو پچاس پونڈ کا چیک بھیجا اس نوٹ کے ساتھ کہ پچھلے سال ہم نے جو تمہارا انکم ٹیکس کا ٹا تھا، غلطی سے پانچ سو پچاس پونڈ زیادہ کاٹ لیے۔اب ہم نے چیک کیا ہے اور وہ تمہیں چیک بھیج رہے ہیں یعنی جو رقم اس نے دی تھی وہ ایک ہفتے میں خدا تعالیٰ نے اس کو واپس کر دی۔جب تک آپ انتہائی قربانی دے کر خدا تعالیٰ کے انتہائی پیار کو حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ اس قابل بھی نہیں ہوتے کہ وہ قربانیاں اس کے حضور پیش کریں جو کل، جو پرسوں، جو آنے والا سال ، اس سے اگلا آنے والا سال آپ سے مطالبہ کرے گا۔اس واسطے میری مانو۔خدا کے لئے میری مانو اور اس کے دامن سے چمٹ جاؤ اور اسے بالکل نہ چھوڑو اور کامل تو کل اس پر کرو۔وہ کبھی ایسے آدمی سے بے وفائی نہیں کرے گا۔بے وفا انسان ہی بن جاتا ہے خدا بے وفائی نہیں کرتا۔اس نے اعلان کیا ہے قرآن کریم میں کہ جو میں وعدہ کرتا ہوں اسے پورا کرتا ہوں اور وہ طاقت رکھتا ہے پورا کرنے کی۔یہ نہیں کہ بوڑھا ہونے کا خطرہ، کمزور ہونے کا خطرہ ، دشمن سے مغلوب ہو جانے کا خطرہ ہو۔اس کی تمام طاقتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ اور پورے نور کے ساتھ اور پورے حسن کے ساتھ ہمیشہ قائم رہیں اور قائم رہیں گی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء صفحه ۱ تا ۶ )