خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 324
خطبات ناصر جلد نہم ۳۲۴ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء تمہارا نہیں۔میرے فضلوں نے سب رقم ادا کی ہے۔اس طرح فضل کرنے والا ہے ہمارا خدا۔تو وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ صبر کر و استقامت کے ساتھ ، مضبوطی کے ساتھ ، وفا کے ساتھ ، جانثاری کے ساتھ ، قرآن کریم کی شریعت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو پکڑو اور آپ کے أسوه پر چلو وَ عَلى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ایسے لوگ خدا تعالیٰ پر کامل تو کل صحیح تو گل ، پورا تو گل کرنے کے بعد ہی صبر کر سکتے ہیں یعنی یہ کہ ہر چیز چھوڑ دیں خدا کے لئے۔صبر نہیں کر سکتے جب تک ہر چیز خدا سے پانے اور اس کی بشارتیں اپنی زندگی میں پورا ہونے پر کامل یقین نہ رکھیں۔اس مضمون کے لحاظ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس کا ترجمہ اپنی تفسیر میں یہ کیا ہے۔” جو ظلموں کا نشانہ بن کر بھی ثابت قدم رہے ہجرت میں آ گیا تھا ناظلم۔شہر چھوڑ ا۔خاندان چھوڑا، اموال چھوڑے، حویلیاں چھوڑیں ، چھوڑ ہی دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر جو کیا آپ کی عظمتوں کا وہ نشان ہے اور جو فتح مکہ کے روز کیا، عظمتوں کا وہ نشان بڑا ہی بلند ہو گیا۔ایک لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ (يوسف : ۹۳) کہ تم سب کو میں نے معاف کر دیا۔دعا کرتا ہوں اللہ بھی تمہیں معاف کر دے اور دوسرے وہ مہاجر جن کی بڑی بڑی حویلیاں شایدان میں اتنی بڑی بھی ہوں گی جو یہاں بھی ملنی مشکل ہیں پرانے طریق کی بڑی مضبوط بنی ہوئی حویلیاں تھیں۔بڑے رئیس تھے۔رؤسائے مکہ بڑے امیر تھے۔ان میں سے جو مسلمان ہوئے سب کچھ چھوڑ کے مدینہ آئے تھے۔نبی کریم صلی اللہ وسلم نے یہ سوچا ہوگا کہ اگر میں نے ذرا سا بھی یہ اشارہ کیا کہ اب تم سب کچھ واپس لے سکتے ہو تو یہاں تو بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔آپ نے کہا میں جا رہا ہوں واپس مدینہ اس میں ایک اور بھی حکمت ہے اور وہ یہ کہ جس دن حویلیاں چھوڑ کے مدینہ چلے گئے تھے، کوئی کہ سکتا تھا مجبوری تھی اور کیا کرتے۔جس دن رہ سکتے تھے وہاں نہیں رہائش اختیار کی اور چھوڑ کے چلے گئے۔کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کوئی مجبوری تھی خدا کے لئے چھوڑ دیا تھا پھر واپس نہیں لیا۔ساری جائیدادیں وہیں چھوڑ کے مہاجرین کو لے کے واپس چلے گئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ کی دراصل وہ تشریح ہے کچھ آیتیں بیچ میں