خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 320

خطبات ناصر جلد نہم ۳۲۰ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء تبھی ہوتا نا جب ہماری مرضی پر چلتا ) لرفعنہ اُسے روحانی رفعتیں حاصل ہو جا تیں لیکن وہ ہماری مرضی پر نہیں چلا بلکہ اہوائے نفس کی اس نے اتباع کی ولكنَّه أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وہ زمین پر گر پڑا رفعتیں حاصل کرنے کی بجائے۔وَاتَّبَعَ هَولہ یہ قرآن کریم کا ہے اخُلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هونه رفعتوں سے محرومی اسے ملی اور زمین پر اسی طرح، زمین کا کیڑا جس طرح زمین پہ چل رہا ہوتا ہے وہ اس کی حالت بن گئی۔انسان زمینی گراوٹ کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔انسان کو ( مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللہ ریت: ۵۷) کی آیت جس کی طرف اشارہ کرتی ہے ) آسمانوں کی بلندیوں کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی اُمت مسلمہ کو کہ جب تم میں سے کوئی عاجزی، انکساری اور تواضع کی راہوں کو اختیار کرے گا رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ساتویں آسمان کی بلندیاں اسے حاصل ہو جائیں گی۔یہاں یہ فرمایا اگر وہ ہماری مرضی کی راہوں کو اختیار کرتا کر فعنہ ہم نے اس کے لئے بلندیاں مقدر کیں ہوئی تھیں لیکن اخلد إلى الْأَرْضِ وہ تو زمین پر گر پڑا، زمین کا کیڑا بن گیا وَ اتَّبَعَ هَواهُ اور اپنے اہوائے نفس کی اتباع اس نے کرنی شروع کر دی۔دوسری چیز جس سے کہ حصول میں روک بنتی ہے اتباع اہوائے نفس وہ یہ ہے۔شہوات نفسانی کی پیروی کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب ہوتی ہے۔سورۃ الانعام آیت ۱۵۱ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اہوائے نفس کی اتباع کا ، پیروی کا مرتکب ہوگا اتنا ظلم کر رہا ہوگا اپنے نفس پر کہ اللہ تعالیٰ نے جو آیات اس کی بہتری کے لئے نازل کی ہیں ان کی وہ تکذیب کر رہا ہے۔اہوائے نفس کی پیروی تکذیب آیات باری ہے۔یہ اعلان کیا گیا ہے۔آیات جو ہیں قرآن کریم میں دو معنی میں استعمال ہوئی ہیں۔دُنیوی انعامات مثلاً ایٹم کے ذرے میں وہ طاقت جو آج انسان نے معلوم کی اور روحانی انعامات جو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے اور فرمایا ہے کہ موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح میری آیات ، انعامات جو ہیں ، نعماء جو ہیں وہ تم پر نازل ہو رہی ہیں۔ہر آیت کا انکار ہو رہا ہے۔ایٹم کے ذرے ہی کو لو جو چیز انسان کی