خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 319
خطبات ناصر جلد نہم ۳۱۹ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء سکتے ہیں۔مفردات راغب نے ہجرت کے معنی میں لکھا ہے۔مُقْتَضَى ذلك ہجرت کا تقاضا یہ ہے کہ هُجْرَانُ الشَّهَوَاتِ شہوات نفسانی کو ترک کرنا وَ الْأَخْلَاقِ النَّمِيمَةِ اور جو گندے اور بڑے اخلاق ہیں انہیں چھوڑ دینا والخَطَايَا اور جو گناہ کی باتیں ہیں ان سے باز آجانا۔خواہشات نفسانی کا ذکر بہت سی جگہ قرآن کریم میں آیا اور یہ بتایا گیا ہے کہ جو شیطانی اثر ہیں زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ (ال عمران : ۱۵) اہوائے نفس خوبصورت کر کے دکھائے جاتے اور ان کا پیار شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔هوی کا لفظ اس سے ملتے جلتے معنی کا ہے۔اہوائے نفس بھی ہم کہتے ہیں۔خواہشات نفس بھی ہم کہتے ہیں۔ھوی کے معنی ہیں مَيْلُ النَّفْسِ إِلَى الشَّهْوَةِ شہوت کی طرف خواہشات کی طرف انسان کا میلان جو ہے عربی میں اسے الھدی کہتے ہیں۔مفردات راغب میں آیا ہے وَقَدْ عَظَمَ اللهُ دَمَّ اِتِّبَاعِ الْهَوَی کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بڑی اہمیت بیان کی اور اس پر بڑا زور دیا کہ اتباعِ الهَوای خواہشات نفسانی کی اتباع بڑی مذموم چیز ہے، بہت بُری چیز ہے، بہت گندی چیز ہے۔بڑا زور دیا گیا ہے اس پر اور قرآن کریم کا دعویٰ تھا کہ میں ہر چیز کھول کھول کے بیان کرنے والا ہوں ، قرآن کریم نے بہت جگہ شہوات نفسانی جن کو ترک کرنے کا حکم ہے ہجرت میں۔اور یہ اہواء جو ہیں ان کے جو مضرات ہیں جس وجہ سے اس کی برائی کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کے کلام میں ، ان کے اوپر روشنی ڈالی گئی ہے۔میں نے اس خطبہ میں چند باتیں ان آیات قرآنی میں سے لی ہیں کہ شہوات نفسانی کی اتباع کرنے والے کس قسم کی محرومیوں میں خود کو ڈالنے والے اور اللہ تعالیٰ کے کن انعاموں سے وہ محروم ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کے تعلق میں (اہوائے نفس یا خواہشات نفس یا شہوات نفس ایک ہی چیز ہے ) پہلی چیز یہ بتائی گئی ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول سے شہوت نفس یا اہوائے نفس محرومی کا باعث بن جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۷ میں بیان کیا ہے۔و کوشتنا اگر ہم چاہتے تو اسے رفعتیں اور بلندیاں عطا کرتے۔اس کے یہ معنی بھی ہیں ( تلاوت کرتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ بالکل یہ معنی ہیں ) و کوشتنا اگر ہماری مرضی پر وہ چلتا ( ہم چاہتے“