خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 309

خطبات ناصر جلد نهم ٣٠٩ خطبه جمعه ۶ نومبر ۱۹۸۱ء چھوٹی گاؤں کی سڑکیں تھیں ایک دودھ کی موٹر van' لے کر پھرتے رہتے ہیں دودھ بیچنے کے لئے وہ کھڑی ہوئی تھی اور سکول کے بچے سکول سے واپس آکے تو بعض کے پاس پیسے تھے۔وہاں کھڑے ہوئے تھے کوئی چاکلیٹ خرید رہا تھا کوئی دودھ پی رہا تھا۔تو میں نے اُن کو دعوت دی کہ جو دودھ پی رہا ہے اس کے پیسے میں دوں گا۔میں اپنا تعارف کروانا چاہتا تھا۔خیر وہ پانچ دس بچے جو تھے انہوں نے میری دعوت قبول کر لی۔اُن کو میں نے دودھ پلایا۔ہر بچہ سے میں نے پوچھا کہ آج تم نے دانت صاف کئے۔کہتا نہیں۔میں نے کہا ایک ہفتے سے تم نے دانت صاف کئے۔کہتا نہیں۔میں نے کہا جب سے تمہیں ہوش آئی ہے۔تم نے اپنی ہوش میں کبھی دانت صاف کئے کہتا نہیں۔یہ مہذب دنیا ! لیکن ہمارے آقا نے تو چودہ سو سال پہلے ہمیں مہذب بنا دیا۔پاکیزگی جسمانی اور اپنے ماحول کی اور کپڑوں کی۔یہ تہذیب کا حصہ ہے جو اُن کے نصیب میں نہیں تھا ، ہمیں مل گیا۔اس لئے ربوہ میں صفائی ابھی سے شروع کر دو۔ربوہ کی صفائی کے دو حصے ہیں۔ایک جو گند نظر آئے خدام الاحمدیہ اسے دور کرنا شروع کر دے سارے ربوہ سے۔ایک ہر گھر کی یہ ذمہ داری ہے کہ گند باہر نہ پھینکے۔بہت سارے ایسے گھرانے ہیں جن کو ہمارے محلوں کی تنظیم نے یہ بتایا ہی نہیں کہ سڑک کے اوپر ، راہ گزر پر جسے عربی میں’ طریق “ کہتے ہیں۔گند پھینکنا گناہ ہے۔گند پھینکنا گندگی پیدا کر نا عام فضا میں گناہ ہے۔اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ طریق یعنی راستے سے گند کو دور کرنا اور ہٹا نا ایمان کا حصہ ہے۔تو بے ایمانی ہو گیا نا گند پھینکنا۔بڑی دلیری کے ساتھ جہالت کے نتیجہ میں گھر والا بے ایمان بن جاتا ہے۔صفائی کر کے سڑک کے اوپر پھینک دیتا ہے۔اہلِ ربوہ کو میں مخاطب ہوں ایک تو آپ نے سڑک پر گند نہیں پھینکنا اور خُدّام کی تنظی دوسروں کے ساتھ ملائیں انصار کو بھی اور اطفال کو بھی۔آپ نے کہیں گند نظر آئے ، اُسے اٹھا دینا ہے یا غلط جگہ خار دار جھاڑیاں آگ آتی ہیں اُن کو کاٹ دینا ہے۔دوسرا گند یہ جو کھو کھے اور یہ ساری چیزیں ہیں نا یہاں کیلا کھایا اور اس کا چھلکا پھینک