خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 308

خطبات ناصر جلد نهم ۳۰۸ خطبہ جمعہ ۶ / نومبر ۱۹۸۱ء کیوں دی جاتی ہیں۔کئی ایک نے مجھے کہا۔میرے دماغ نے تو یہ سوچا جب تمہاری کثرت ہو جائے گی تو تمہیں بھی ہم پرالی دیا کریں گے۔آج میں جو ہماری ذمہ داریاں ہیں ان کی طرف جلسہ سے پہلے میں یاددہانیاں ذکر کے ماتحت کروایا کرتا ہوں ان میں سے بعض باتوں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔اہل ربوہ کی ذمہ داریاں باہر سے آنے والوں کے مقابلہ میں اپنے اثر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں۔اگر آپ میں باہر سے آنے والا بد اخلاقی دیکھے گا تو آپ کے لئے ڈوب مرنے کی جاہے اور اتنا برا اثر ہوگا اس کے اوپر کہ کوئی حد نہیں اور اگر آپ ان سے میٹھے بول بولیں گے ان کی خدمت کر رہے ہوں گے اپنی طرف سے کوشش کر رہے ہوں گے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچے ، ہوسکتا ہے کہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو لیکن اگر دل سے آپ کوشش کر رہے ہوں گے بالکل اسے نظر انداز کر دیں گے۔اگر وہ یہاں صفائی نہیں دیکھیں گے اور ہمارے قرآن کریم نے ان کو یہ سکھایا ہوا ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنی وحی نے یہ ذمہ داری ڈالی کہ اُمت مسلمہ کی اس طرح اصلاح کرو کہ جسمانی لحاظ سے بھی ، مادی لحاظ سے بھی اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی ان میں پاکیزگی پائی جائے ، طہارت پائی جائے۔اتنی تفصیلی ہدایات دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک کرو۔آپ صبح اُٹھ کے مسواک کرتے تھے کیونکہ رات بھی نہیں انسان کرتا ایک لمبا عرصہ گزرتا ہے تو منہ میں بعض Germs ( جرمز ) پرورش پا جاتے ہیں۔پھر مسواک کیسے کرو۔جو آج کا ڈینٹسٹ ہے ان کو ایک دفعہ میں نے بتا یا ماہر کو تو وہ کہنے لگا اچھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے۔ہم تو سمجھتے تھے کہ آج کے زمانہ کی جو Discoveries بہت سی ہوئی ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ اس طرح برش کرنا چاہیے کہ مسوڑھے کے اوپر سے نیچے کی طرف نہ لاؤ۔اس سے زخم ہو جائے گا نیچے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور یہ جو مہذب دنیا ہے جیسے اثر قبول کر کے آپ میں سے بعض خاندان وہاں جا کے پردہ چھوڑ دیتے ہیں ، ان کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ جب میں پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ میں سیر کر رہا تھا گاؤں کے ایک علاقے میں۔میری عادت تھی کہ میں سیکھتا تھا بہت کچھ مشاہدہ کر کے۔تو ایک چوراہے کے اوپر میں سیر کر رہا تھا تو ایک چوراہے پر