خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 300
خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۱ء تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی برکتوں سے نوازا ہے اور ہم چونکہ اس کے شکر گزار بندے ہیں شکرانہ کے طور پر میں جو ٹارگٹ ہے وہ اٹھارہ لاکھ سے ہمیں لاکھ کر دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ جماعت اسے پورا کر جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ پاکستان کی جماعت کا ٹارگٹ ہے اور باہر کی جماعتوں کا تو ٹارگٹ ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ وہ چھلانگیں مارتے ہوئے خود ہی آگے بڑھ رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اگر بعض ایسی جگہیں ہیں علاقے کہ جن کے متعلق میرے علم میں ہے کہ اگر ان کی تربیت کر دی جائے تو یہ وہ علاقے جو ابھی سست ہیں چار کروڑ سے زیادہ وہ تحریک کو دینا شروع کر دیں گے انشاء اللہ۔بہر حال ایک تو ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانہ کے طور پر اس سال کے بجٹ میں دولاکھ روپیہ زیادہ دینا ہے۔دوسرے ہم نے (اور وہ بڑی اہم بات ہے ) نہایت عاجزی اور تضر ع کے ساتھ اور حقیقی توحید پر قائم ہوتے ہوئے یہ دعائیں کرنی ہیں کہ اے خدا! ہم سے ہمیشہ ہی پیار کرتا رہ اور ہمیں شکر گزار بندہ بنائے رکھ۔ہمیں دعاؤں کی توفیق عطا کر اور ہماری دعاؤں کو قبولیت عطا کرتا کہ ہم تیرے عاجز بندے تیرے اس حکم کی تعمیل میں کامیاب ہو جائیں کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے۔آمین پھر حضور انور نے فرمایا:۔آج انصار اللہ کا اجتماع ہے۔اس سال یہیں انہوں نے انتظام کیا ہے۔ماشاء اللہ جور پورٹیں ابھی تک مشاہدے کے نتیجے میں مجھے ملی ہیں وہ تو یہی ہیں کہ تعداد پچھلے سال سے زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ برکت ڈالے نفوس میں بھی اور اموال میں بھی آپ کے اور غور سے سنیں۔بعض چیزوں کو دہرانا بھی پڑتا ہے۔آج کی افتتاحی تقریر میں میں وَذَكَرُ فَإِنَّ الذكرى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الثَّریت : ۵۶) کی ہدایت کے مطابق وہ باتیں جو ہر احمدی کے ذہن میں ہر وقت حاضر رہنی چاہئیں تھیں لیکن بعض لوگ بھول جاتے ہیں وہ یاد دلاؤں گا انشاء اللہ۔خدا میری زبان میں تاثیر دے اور آپ کے دلوں میں تا خیر قبول کرنے کی طاقت بخشے۔آمین