خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 278

خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۸ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۸۱ء قریباً ستر ہزار ڈالر میں وہ خریدا گیا۔دو ہفتے کی بات ہے انہوں نے لکھا کہ ہمیں ایک جگہ مل رہی ہے کیلگری سے سات میل پر چالیس ایکڑ کی اور جو جگہ پہلے ہم نے پہلے خریدی تھی وہ بمشکل ایک کنال کی ہوگی ، شاید اتنی بھی نہ ہو۔چالیس ایکڑ کی جگہ مل رہی ہے۔جس میں ایک نیا مکان بنا ہوا ہے جس کی مکانیت ہمارے مشن ہاؤس سے کافی بڑی ہے۔کھلے کمرے ہیں۔زیادہ اچھا مکان بنا ہوا ہے اور وہ مل رہا ہے مکان ہمیں تین لاکھ پچاس ہزار ڈالر کو وہ۔ہم نے ستر ہزار ڈالر میں وہ خریدا۔تو یہ تین لاکھ پچاس ہزار ڈالر کومل رہا ہے اور جو وہ خریدا ہوا مکان تھا پانچ چھ سال پہلے، وہ چار لاکھ بیس ہزار ڈالر کو بک جائے گا یعنی مکان بھی خریدا جائے گا اور جو اس وقت اس کے او پر خرچ ہوا تھا وہ رقم کیش، نقد ہمارے پاس آ جائے گی۔اب یہ میں نے تو نہیں دیئے ان کو پیسے یا امریکہ نے تو نہیں دیئے پیسے ان کو یا کسی اور انسان نے تو نہیں دیئے پیسے۔خدا تعالیٰ نے انتظام کیا یعنی پانچ چھ سال پہلے بڑی سوچ بچار کرنے کے بعد تکلیف محسوس ہوئی کہ اتنا یہ خرچ ہورہا ہے اور وہ خرچ کر دیا اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ برکت ڈالی کہ وہ ایک کنال کے بدلے میں چالیس ایکٹر زمین ( ۳۲۰ کنال) اس سے اچھا گھر۔میں نے ان کو کہا خریدو۔الحمد اللہ پڑھو اور خریدلو۔یہ پہلا پرانا ریچ دو۔اور جس سے میں یہ اندازہ لگاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو جلد بڑی جگہ کی تعداد میں زیادتی ہونے کی وجہ سے ضرورت پڑ جائے گی کیونکہ ہمارا جو مکان بڑا ہوتا ہے وہ ایک لمبا عرصہ بڑا نہیں رہتا۔چھوٹا ہو جاتا ہے یعنی تعداد ہماری بڑھ جاتی ہے۔ربوہ بڑھ گیا۔جہاں ہمارا جلسہ سالانہ سامنے یہ میدان، ہر سال بڑھ جاتا ہے۔جو ہم نے مکان بنائے ، اس وقت بہت بڑا ایک گیسٹ ہاؤس غیر ملکیوں کے لئے بنایا تھا اب اس میں صرف تیس پینتیس فیصد غیر ملکی ٹھہرتے ہیں۔اس وقت سمجھا گیا تھا کہ یہ ضرورت سے زیادہ بنایا گیا ہے۔تو ہماری کم مائیگی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی دوڑ لگی رہتی ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری کم مائیگی کے مقابلے میں اس دوڑ میں خدا تعالیٰ کے فضلوں نے ہی جیتنا ہے۔یہ میں بات اس لئے بتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے۔اس کے علاوہ کسی پر توکل اپنی انفرادی زندگی