خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 15
خطبات ناصر جلد نہم ۱۵ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء سورۃ آل عمران میں فرمایا۔لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ اَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظلِمُونَ - وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ فَفُورٌ رَّحِيمٌ ـ (ال عمران: ۱۲۹ ۱۳۰) تیرا اس معاملے میں کچھ دخل نہیں یہ سب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے چاہے تو ان پر فضل کرے اور چاہے تو ان کو عذاب دے دے، ہیں وہ ظالم، اور وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ حاکمیت اس کی ہے حاکم اعلیٰ ہے جسے پیدا کیا ہے خالق بھی ہے وہ اور مالک بھی ہے اس کا اور حاکم بھی ہے اور غفور اور رحیم بھی ہے۔تو اس سے یہ بھی پتہ لگا کہ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے ہم تمہارے لئے دعا کریں گے۔ایک دفعہ میرے سامنے بھی کسی نے کہا تھا۔دیر کی بات ہے جب میں کالج کا پرنسپل تھا۔میں نے اس شخص کو کہا کہ صرف رب تمہارا نہیں رب العالمین ہے، ہر ایک کا رب ہے اور ہر ایک کی دعائیں سنتا ہے۔تم بھی دعا کرو گے میں بھی دعا کروں گا ہر ایک دعا کر سکتا ہے۔پھر یہ اس کی مرضی ہوگی کہ وہ کس کی دعا کو قبول کرتا ہے کس کی رد کر دیتا ہے تو یہ سمجھنا کہ تمہاری دعا کو قبول کرنے پر خدا مجبور ہے اور خدا مجبور ہے کہ دوسرے کی دعار د کر دے، یہ خدائی کا دعویٰ ہے اور بڑا ہی احمق اور ظالم ہے وہ انسان جو بندگی کی عاجزانہ راہیں اختیار نہ کرے، خدا بننے کی کوشش کرے۔ہمیں یہ فکر ہونی چاہیے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے حساب ہوگا ہر شخص کا نہیں ہوگا تو کسی کے زور سے نہیں۔مرضی ہے بغیر حساب کے بھی بھیجتا ہے جنتوں میں، اس کا بھی ذکر آیا ہے لیکن اس کا فیصلہ اس نے کرنا ہے میں نے اور آپ نے نہیں کرنا۔جو میں نے اور آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں خشیت ہوا اور خشیت کی بنیادوں پر ہماری زندگی گزر رہی ہو۔اور ہماری ہر حرکت اور سکون اور ہماری سوچ اور فکر اور ہمارے اعتقادات جو ہیں اور ہمارے اعمال جو ہیں خشیتہ اللہ پر ان کی بنیاد ہوصرف ایک غرض ہو ہر سانس لینے کی اور وہ یہ کہ خدا ہم سے راضی ہو جائے وہ ہم سے ناراض نہ ہو باقی جو اس کی مخلوق ہے وہ جس کو چاہے معاف کر دے آپ کون ہوتے ہیں اس کو روکنے والے یا سوچنے والے کہ وہ نہیں معاف کرے گا بڑی وضاحت کے ساتھ یہ چیز قرآن کریم میں آئی ہے میں اپنے بھائیوں کو کہوں گا کہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بندہ بننے کی کوشش کریں