خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 14

خطبات ناصر جلد نهم ۱۴ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے کسی اور کا نہیں۔اور اس کے لئے اس صفت کا بھی ہونا ضروری ہے کہ خدائے ذوالجلال والاکرام طاقت رکھتا ہو حساب لینے کی ، بخشنے کی اور عذاب دینے کی ہر چیز پر وہ قادر ہو جس رب پر ہم ایمان لائے ہیں وہ ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک اور نقائص سے منزہ ہے لَهُ الْأَسْمَاءِ الْحُسْنَى ( الحشر : ۲۵) تمام اچھی صفات جو خدا میں ہونی چاہئیں وہ تمام کی تمام اپنے پورے کمال کے ساتھ اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ۲۸۵) پھر سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ قَالَتِ الْيَهُودُ وَ النَّصْرِى نَحْنُ اَبْنُوا اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ ، بَلْ أَنْتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَ لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ - (المائدة : ۱۹) یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اس کے ساتھ پیار کا تعلق ہے وہ ہم سے بڑا پیار کرتا ہے اسی طرح جس طرح پیار کرنے والا باپ پیار کرتا ہے وَاحِباؤُہ اور اس کے پیارے اور محبوب ہیں چونکہ اس کے ابناء ہیں اور پیارے ہیں اس واسطے اس کے عذاب سے ہم محفوظ ہیں اپنے پر انہوں نے یہ حکم لگایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مرنے کے بعد عذاب نہیں دے سکتا اس واسطے کہ ہم وَاحِباؤُه اس کے پیاروں میں سے ہیں۔کہہ دے کہ پھر وہ تمہارے قصوروں کے سبب اس دنیا میں تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے۔ایسا نہیں جیسا تم سمجھتے ہو اور جس کا تم اعلان کرتے ہو بلکہ جو نوع انسانی کے دوسرے افراد ہیں تم بھی ان جیسے آدمی ہو تم میں اور ان میں اس لحاظ سے بھی فرق نہیں کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے دے وہ جسے پسند کرتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے عذاب دینا چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور یہ بات اس کے لئے مشکل نہیں اور کیونکہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب پر حکومت اللہ ہی کی ہے اور اس نے ایسا انتظام کیا ہے کہ تم اس سے بیچ کے نہیں جا سکتے کہیں اور کیونکہ سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کی کامل حاکمیت کو ہمارے سامنے رکھ کے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ تم خود خدا نہ بن جانا، خدائی کا دعویٰ نہ کر بیٹھنا، یہ کام کہ کسی کو بخشنا ہے یا نہیں، کسی کو عذاب دینا ہے یا نہیں، یہ کسی انسان کا کام نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔