خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 238

خطبات ناصر جلد نهم ۲۳۸ خطبه جمعه ۲۸/اگست ۱۹۸۱ء دین کی بنیاد مستحکم ہے۔دین کا راستہ جسے ہم صراط مستقیم کہتے ہیں۔بڑا فراخ ہے قرآن کریم کی ہدایت کے آنے کے بعد بڑا وسیع بھی ہے ، روشن بھی ہے اور اپنے اندر وہ تمام صلاحیتیں رکھتا ہے کہ نئے تقاضوں کو نئی نسلیں اخلاقی اور روحانی طور پر پورا کرسکیں۔اس مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دنیا میں بسنے والے (میں اس وقت پاکستان کی بات نہیں کر رہا) بہت سے ایسے مسلمان بھی ہیں (پاکستان سے باہر ) جو بعض دفعہ مجھے یہ کہتے ہیں کہ چودہ سو سال گزر گئے قرآن کریم کو نازل ہوئے ، دنیا بدل گئی، دنیا کے حالات بدل گئے ، دنیا کا معاشرہ بدل گیا۔دنیا کی ضروریات بدل گئیں، دنیا کا علم کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔چودہ سو سال پرانی کتاب ہماری ضرورتوں کو آج پورا کر سکتی ہے؟ میرا جواب ہر ایسے شخص کو اور میری نصیحت ہر احمدی کو، بڑا ہو یا چھوٹا ، یہ ہے کہ ہاں پورا کر سکتی ہے۔اس لئے کہ قرآن کریم جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے ایک کامل کتاب کی شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل کیا۔اس کے اندر یہ تمام خوبیاں اور طاقتیں اور وسعتیں اور لچک پائی جاتی ہے کہ بنیادی حقائق کو بدلے بغیر ، بنیادی حقائق پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے ، نئے تقاضے جو ہیں زمانہ کے، انہیں پورا کیا جا سکتا ہے۔ایک جرمن غیر مسلم محقق نے ایک کتاب لکھی ہے۔بائییل قرآن اور سائنس ( دور حاضر کی جو سائنس ہے ) اور اس نے یہ نتیجہ نکالا ہے قرآن کریم کے متعلق ، جس کی میں بات کر رہا ہوں کہ میں (جرمن محقق۔ناقل ) نے قرآن کریم کے بہت سے احکام کا موازنہ کیا دور حاضر کی سائنس سے، تو ایک حکم بھی مجھے ایسا نہیں ملا جو اس کے خلاف ہو اور متضاد ہو۔تو جو چیز ایک صاحب فراست غیر مسلم کو نظر آجاتی ہے اگر وہ ایک مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کی نظر سے اوجھل رہے تو بڑی بدقسمتی ہو گی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جو بڑی عمر کے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ذَكَر فَإِنَّ الذِكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الدريت : ۵۶) یاد دہانی کا ، آپس میں باتیں کرنے کا، جو نئے مسائل ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں ان کا ذکر ہوتا رہے تاکہ ہمارے حافظے کی کمزوری ہمارے ایمان پر اثر انداز نہ ہو جائے اور جو ہماری ابھرنے والی نسلیں ہیں وہ حقیقتیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، ان کے سامنے آنی چاہئیں تا کہ