خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 148
خطبات ناصر جلد نهم ۱۴۸ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء ایک مجاہدہ ہے، ایک ہجرت ہے (اس وقت وہ میرا مضمون نہیں ہے وہ اشارے ہیں ) مجاہدہ ہے ہر لمحہ جو زندگی کا ہے اس میں بھی اور مجاہدہ ہے ہر وہ موت نئی سے نئی جو انسان کے سامنے آتی ہے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے انسان کہتا ہے کہ میں تیرا نہیں ، میں خدا کا ہوں بندہ۔اس واسطے تیرا اثر مجھ پر نہیں ہوگا۔تو وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔قُلْ آغَيْرَ اللهِ اَبَغِی رَبَّا کیا اللہ کے علاوہ میں کسی اور کو رب تسلیم کروں حالانکہ میں نے اپنے نفس میں بھی یہ پایا کہ اس کے علاوہ کوئی ہستی میری ربوبیت نہیں کر سکتی اور دنیا کی ہر شے کا جب میں نے مشاہدہ کیا، میں نے یہی مشاہدہ کیا کہ رَبّ الْعَلَمِيْنَ کی بجاۓ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ کے علاوہ اور کوئی رب نہیں جو ان کی درجہ بدرجہ ترقیوں کے سامان پیدا کر کے ان کو کمال تک پہنچانے والا ہو۔تو یہ تین باتیں ہمیں ایک خاص مقام تک لے گئیں۔جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے۔يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسلام اس کی زندگی میں ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ اسلام قبول کرنے میں انقباض صدر نہیں ہوتا بلکہ انشراح صدر ہوتا ہے، اس کو محفوظ کیا جاتا ہے ایسے ابتلاؤں سے جس کے نتیجے میں انقباض پیدا ہو جاتا ہے۔چونکہ انقباض نہیں ہوتا ، وہ اپنی مرضی اور رضا سے اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوتا ہوں اور ساری ذمہ داریاں قبول کرتا ہوں اور زبان سے صرف اقرار نہیں ہوتا بلکہ اس کا عقیدہ جو ہے وہ بھی اور اس کے اعمال جو ہیں وہ بھی ایسے ہیں کہ ان میں بہترین حسن پایا جاتا ہے۔اَحْسَنَ کے معنی عربی میں ہیں بہترین طریقے پر کسی چیز کو کرنا۔تو وہ صحیح عقیدہ کو پہچانتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قسم کے اعمال کو پسند کرتا ہے اور کون سے اعمال اسے پیارے ہیں ، پھر خالی بے دلی سے وہ نہیں کرتا ، بے رغبتی سے وہ نہیں کرتا بلکہ پوری کوشش سے جس قدر حسن اور نور اپنے اعمال میں پیدا کر سکتا ہے کوشش کرتا ہے کہ وہ حسن اور نور پیدا ہو جائے اور اس کی زندگی ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہے إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ - یہ جب کیفیت ایک مسلمان کے دل میں پیدا ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ہی جیسا کہ میں نے بتایا