خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد نهم ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء یہ سامان پیدا کئے ہیں اس کو استعداد دی، اس استعداد کوخرابی سے اور کیڑا لگ جانے سے اور شیطانی اثرات سے اور بے رغبتی سے اور جہالت سے اور بے رخی سے اور محبت الہی کے فقدان سے محفوظ رکھا اور اعلان کروایا اللہ تعالیٰ نے ہی کیا نا سارا سامان ، اس واسطے اعلان ہو گیا اسلام کا مسلمان کون ہے؟ یہاں پہنچ گئے ؟ هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج: ۷۹ ) اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔دنیا کے کسی انسان کو، دنیا کی کسی حکومت کو ، دنیا کی کسی دولت کو ، دنیا کے کسی جتھے کو ، دنیا کے کسی سیاسی اقتدار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کہے یہ حالات پیدا کرنے میں میرا دخل ہے اور اس وجہ سے کوئی مسلمان بنتا ہے، کوئی کافر بن جاتا ہے۔نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے اور خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا پچھلی آیتوں میں کہ یہ حالات میں نے پیدا کئے اور ان کے مطابق میں اعلان کرتا ہوں کہ میں نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔جس شخص کے کان میں یہ آواز پڑے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام مسلمان رکھ دیا اور ساری دنیا شور مچاتی رہے کہ وہ مسلمان نہیں تو کیا رد عمل ہوگا اس کا ساری دنیا کے شور اور چیخ و پکار کے مقابلے میں۔کہے گا خدا مجھے کہتا ہے میں مسلمان ہوں تمہاری میں کوئی پرواہ نہیں کرتا۔یہ پہلا نکتہ ہے جو میں تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں یہی دستور ہے، ہمارے ملک میں بھی رہا ہے۔مغل بادشاہ کسی کو دس ہزاری کا خطاب دے دیتے تھے، کسی کو آٹھ ہزاری کا کسی کو سات ہزاری کا۔وہ عقل مند ، صاحب فراست لوگ تھے ، دنیوی اقدار کی ذمہ داریوں کو سمجھتے تھے ، وہ مذاق نہیں کرتے تھے نہ اس شخص سے جس کو مثلاً دس ہزاری کا خطاب دیا نہ اپنے معاشرہ سے نہ اپنی قوم سے بلکہ جسے دس ہزاری کا خطاب دیتے تھے اور ممکن ہے بعض بچے سمجھیں نہ کہ دس ہزاری ہے کیا چیز ؟ اس لئے سمجھا دوں وہ اس کو کہتے تھے کہ میں تجھے اجازت دیتا ہوں کہ تم میرے لئے دس ہزار کی تعداد میں فوج تیار کرو یہ حکم دے دیا۔اب دس ہزار کی فوج بادشاہ کے حکم سے نہیں بنتی۔یہ تو ہر ایک سمجھ جائے گا۔اس کے لئے بہت سے سامانوں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے کچھ تو حکومتِ وقت کے جو قوانین ہیں وہ ایسے ہونے چاہئیں جن میں دس ہزار کی فوج کی صحیح تربیت اور ٹریننگ ہو سکے اور خوشحالی ہو، اطمینانِ قلب