خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 125

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۵ خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۸۱ء خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو گیا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو گیا۔تو جب انسان شیطانی راہوں پر چلے۔جب انسان مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ جو احکام اللہ تعالیٰ نے جاری کئے کائنات میں ان کو توڑنے لگ جائے اور جو مشورے اس کے کان میں شیطان اس کو دے، ان مشوروں کے مطابق وہ اپنی زندگی ڈھالنے لگ جائے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی منزلت اور عظمت اور کبریائی نہ ہوا اور خدا تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہ رہے اور حقیقتاً وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور اس سے بیزار ہو جائے۔یہ ہے لعنت کا لفظ۔خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ اے شخص! تجھے میں نے پیدا کیا تھا اس لئے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إلا لِيَعْبُدُونِ (الذریت : ۵۷) تا کہ تو میرا بندہ بنے۔تاکہ تو تخلق باخلاق اللہ کرے۔میرے اخلاق کا رنگ تیرے اعمال میں سے ظاہر ہو۔تو نے تو میری پرواہ ہی کوئی نہ کی۔تو نے میرے اس نور کو چھوڑ کے شیطانی ظلمات کو ترجیح دی۔تو نے میرے حسن کو نظر انداز کر کے انتہائی بدصورتی جو ہے شیطان کی ، اس کو اچھا سمجھا اس واسطے میرے سے کوئی تعلق نہیں۔مقام قرب سے میں تجھے رد کر رہا ہوں۔یہ سزا ہے ایک جو ان تین گروہوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہے۔اس کا تعلق اس آگ سے نہیں جس کی تفصیل آئی ہے۔اس کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے ہے کہ میں تجھے اپنے پاس نہیں پھٹکنے دوں گا۔اے ذلیل انسان آسمانی رفعتوں کے لئے تجھے پیدا کیا تھا، شیطانی گہرائیوں میں تو جا گرا۔دور ہو جا۔دفع ہو جا میرے سامنے سے لعنت ہے تجھ پر میری یہ خدا کہتا ہے۔یہ ایک سزا بیان کی گئی ہے جو ان دو چار سزاؤں میں سے ہے جن کو میں نے منتخب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا ہے لیکن بعض دفعہ انسان دوری کے ایسے فاصلے طے کر جاتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے اتنی دور جا کے کیسے تم واپس آؤ گے۔اتنا دور چلا جاتا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے خدا تعالیٰ کے پیار کے دروازے اپنے پہ بند کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کا فضل جب تک