خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 126

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۶ خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء نہ ہو۔رحمت جب تک نازل نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ اپنی جگہ درست ہے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے خود خدا نے راہیں کھولی ہیں اور دروازے وا کئے ہیں۔ان راہوں پر چلنا، ان دروازوں میں داخل ہو کر اس کی رضا کی جستجو کرنا، انسان کے لئے ہے۔استغفار کرتے ہوئے ، تو بہ کرتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے ، عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اس گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ کہ سب سے بہتر حکم اللہ کا ہی حکم ہے۔دنیا کی ساری طاقتیں اکٹھی ہو کے اگر کسی مومن ، یقین رکھنے والے صاحب عرفان شخص کو کہیں کہ خدا کے اس حکم کو توڑ دے۔نہیں توڑے گا وہ۔وہ کہے گا خدا کا چھوٹے سے چھوٹا حکم میرے لئے بڑی سے بڑی ذمہ داری ہے اور بڑے سے بڑے پیار کا ایک مظاہرہ ہے جو میں خدا سے کر سکتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلاً فرما یا کہ جوتے کا مہ چاہیے خدا سے مانگو۔اگر کوئی شخص آکے مسلمان کو یہ کہتا ہے کہ میں تجھے تسمہ لا دیتا ہوں خدا سے نہ مانگ اور وہ یہ کہہ دے کہ اچھا تو لا دے۔میں نہیں مانگتا خدا سے۔ہلاک ہو گیا وہ شخص۔اور یہ فلسفہ نہیں۔یہ تھیوری نہیں۔میں ذاتی طور پر بہت سے ایسے واقعات جانتا ہوں جس سے ان چیزوں کی صداقت ظاہر ہوتی ہے مثلاً ایک شخص ربوہ میں گھر سے نکلے سائیکل پر اپنے مہمان کو Receive کرنے کے لئے ، ان کا استقبال کرنے کے لئے اسٹیشن پر جارہے تھے لیکن وہ پہنچے نہیں۔رستے میں دم دے دیا انہوں نے۔تسمہ تم کیسے لے سکتے ہو خود تمہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ میں دکاندار کے پاس پہنچوں گا بھی یا نہیں پہنچوں گا۔اس واسطے خدا کے ہوکر ہر احمدی کو میں کہتا ہوں خدا کے ہو کر خدا میں زندگی گزارنے کی کوشش کرو۔دنیا جو کہتی ہے، کہتی رہے آپ کو ذرا بھی کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ابدی جنتیں خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے بنادی ہیں۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )