خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 84

خطبات ناصر جلد نهم ۸۴ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التغابن : ۲) ہر چیز پر وہ قادر ہے۔انسان کے علاوہ جو کائنات ہے اس میں وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اس معنی میں کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( التحریم : ۷) ایسی چیزیں بھی ہمارے علم میں آئیں کہ کئی ہزار سال کی تدریجی تبدیلیوں کے بعد وہ چیز بن گئی مثلاً ہیرا ہے۔ہیرا ژالہ باری کے ژالہ کی طرح آسمان سے تو نہیں گرا۔اسی زمین کے ذروں میں جن میں سے بعض گندم کے پودے کی شکل اختیار کر گئے۔ہزار ہا سال تبدیلیاں آئیں خدا تعالیٰ کے جلوے ان پر ظاہر ہوتے رہے، تدریج کا حکم جاری ہے اور وہ ہیرا بن گیا۔ست سلاجیت ،ست سلا جیت جو ہے اس پر ہمارے حکماء، اطباء نے تحقیق نہیں کی تھی۔اب ریسرچ ہوئی ہے۔یہ ایک سبز رنگ کا پودا بڑا باریک پہاڑوں کے پتھروں پر ہوتا ہے اسے بیچن کہتے ہیں انگریزی میں۔اس میں سے پانی کی طرح کوئی چیز گرتی ہے۔اگر یہ ایسے پتھر کے اوپر ہوجس میں تریر آئی ہوئی ہو تو اس کے اندر گرتارہتا ہے وہ پانی ، اور سینکڑوں سال کے بعد وہ ست سلاجیت بن جاتی ہے اور اس میں بڑی طاقت ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات نے اس کو مفید صحت بنایا ہے۔اب نئی ریسرچ جو کہتے ہیں زیادہ تر رشیا نے کی ہے۔وہ یہ ہے کہ ست سلاجیت دست قدرت باری کی نکلی ہوئی ہے وہ اینٹی بائیوٹک ہے جس میں سارے فائدے ہیں اور ضرر کوئی نہیں ہے اور نمبر ۲ جرم کش دوائی ہے۔شہد کی مکھی نے جو اینٹی بائیوٹک Propolis بنائی ہے اس کے بعد کہتے ہیں یہ نمبر ۲ ہے۔وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ جہاں تک انسانوں کا تعلق تھا قرآن کریم میں اعلان کیا گیا کہ تم مجھے میرے منصوبوں میں ناکام نہیں کر سکتے مَا اَنْتُم بِمُعْجِزِینَ (الانعام : ۱۳۵) - عَلَى شَی ءٍ قدیر کا ہی ہے وہ جلوہ۔پہلے کا ئنات کا ذکر ہے۔فرمایا :۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ( التغابن: ۲) پھر انسان جس کی خاطر یہ سب کچھ ہوا اس کو مخاطب کر کے کہا هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمُ (التغابن: ۳) خدا تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے کسی مقصد کے لئے تمہیں پیدا کیا ہے جس مقصد کے لئے تمہیں پیدا کیا ہے اُس مقصد کے حصول کے لئے جتنی، جس قسم کی قوتیں اور استعدادیں تمہیں چاہئیں تھیں وہ اس نے تمہیں عطا کر دیں۔ان قوتوں کی نشو و نما کے لئے جو چیز بھی چاہیے تھی وہ تمہارے لئے میسر کر دی اور تمہیں یہ