خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 76

خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ۱/۱۰اپریل ۱۹۸۱ء نافرمانی کروں اور اس راہ کو چھوڑ دوں اور اس کی بجائے دیگر راہوں کی تلاش میں لگار ہوں یا دیگر راہوں پر گامزن ہو جاؤں۔تو وہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی نہیں ہوں گی۔إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ میں یہ ڈرتا ہوں کہ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ بڑے دن کے عذاب میں مجھے مبتلا کرے گا۔ہر مومن، مسلم کے دل میں یہ خوف یہ خشیت موجود رہنی چاہیے۔پندرھویں آیت اس سورت ( سورۃ الزمر۔ناقل ) کی یہ ہے۔قُلِ اللهَ اعْبُدُ چونکہ میرے دل میں یہ خشیت ہے کہ اگر میں نے اسلام کو چھوڑا تو خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر نازل ہوگا۔اس لئے یہ اعلان کر دے کہ میں خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔پھر کہہ دے کہ میں اللہ کی عبادت اطاعت کو صرف اس کے لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔اسلام کیا ، اسلام کے کسی حکم کو بھی میں چھوڑ نہیں سکتا۔اسلام پر پختگی کے ساتھ میں قائم ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کے لانے والے، اسلام کو پھیلانے والے، اسلام کو بتانے والے، اسلام کی تفسیر کرنے والے، اسلام پر چل کر ایک اُسوہ قائم کرنے والے ہیں۔بنی نوع کے لئے لیکن ہر انسان کو امت میں سے کہا گیا ہے کہ یہ اعلان کرو کہ ڈ نیوی طاقتیں اگر ہمیں اسلام سے پرے ہٹانے کا سارا ز ور بھی لگادیں گی تو ہم اسلام کا جو راستہ ہے جو ہدایت ہے جو تعلیم ہے اور جو یہ عظیم احسان ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہماری قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے لئے، سامان پیدا کرنے کے لئے ، ہم اس راہ سے کسی خوف سے یا کسی ڈر سے یا کسی لالچ سے ادھر ادھر نہیں جائیں گے۔ہم اس کے اوپر مضبوطی سے قائم ہیں۔قُلِ اللَّهَ اعْبُدُ مُخْلِصًا له دِينِي ( الزمر : ۱۵) کہہ دے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کو صرف اس کے لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔قرآن کریم ہماری ایک ایسی شریعت ہے، ایک ایسی تعلیم ، ایک ایسا دین جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود اس میں فرمایا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : (۴) آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا۔میں نے کہا تھا اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ اس لئے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم یہ دینِ اسلام