خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 77
خطبات ناصر جلد نهم LL خطبه جمعه ۱۰ / اپریل ۱۹۸۱ء کامل ہو گیا۔اس لئے نہیں کہ تمہیں تکلیف میں ڈالے۔اتمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة : ۴) اس لئے کہ تمہارے اوپر میری نعمتوں کی انتہا ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں یہ ہو کہ میں تم سے راضی ہو جاؤں۔میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کیا۔اس پر چلو گے میں تمہیں پسند کرنے لگ جاؤں گا۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہہ دو پکار کے ساری دنیا کے سامنے کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔قُلِ اللهَ اعْبُدُ مُخْلِصًا له دِينِ (الزمر : ۱۵) اس لئے سن لو کہ اللہ کی عبادت ، اطاعت کو صرف اس لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔فَاعْبُدُوا مَا شِخْتُم مِنْ دُونِهِ (الزمر : ۱۶) باقی رہے تم تو اللہ کے سوا جس کی چاہو تم عبادت کرو۔میں مکلف نہیں ہوں اس بات کا کہ تمہیں بھی پکڑ کے باندھ کے دین اسلام کی طرف لے کے آؤں۔جس طرح دنیا کی کوئی طاقت مجھے ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان ہے ) اور پھر ہر امتی کی طرف سے ، ہر وہ جاں نثار جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی ہے، ہر وہ شخص جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی زندگی گزار رہا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میں تو اس راہ کو نہیں چھوڑوں گا جس راہ پر مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم نظر آتے ہیں۔تم جو مرضی کرتے رہو اور جس کی چاہو عبادت کر ولیکن ایک بات سن لو کہ پوری طرح گھاٹے میں پڑنے والے لوگ وہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو بھی اور اپنے رشتہ داروں کو بھی قیامت کے دن گھاٹے میں ڈالا اور اچھی طرح یاد رکھو کہ قیامت کے دن گھاٹے میں پڑنا، یہ کھلا کھلا گھانا ہے اور اس سے زیادہ کسی کو نقصان اور گھانا پڑ نہیں سکتا اور اس سے بڑا عذاب کوئی ہو نہیں سکتا اور اس سے بڑا کوئی دکھ نہیں کہ خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جائے۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ خدا تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔اسلام کے علاوہ اور کوئی دین نہیں اور ہم احمدی اپنے دین پر قائم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔زبردستی کر کے نمازیں نہیں چھڑوا سکتی۔ہم سے روزے نہیں چھڑوا سکتی نیز دیگر جو سات سواحکام ہیں انہیں نہیں چھڑوا سکتی اور وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا (ال عمران : ٨٦) جو