خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 75
خطبات ناصر جلد نهم ۷۵ خطبه جمعه ۱/۱۰اپریل ۱۹۸۱ء اسلام میں اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران :۲۰) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رفعت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں ہوئی تو فرمایا :۔وَ أُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے بڑا فرمانبردار بنوں۔چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاحیت اور استعداد نوع انسانی میں سب سے بڑی تھی اور چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت سے اپنی استعداد اور صلاحیت کو سب سے زیادہ نشو و نما دینے میں کامیابی حاصل کی اس لئے آپ سب سے بلند مقام پر چلے گئے لیکن اُسوہ حسنہ کی پیروی اس بات میں یہ نہیں کہ ہم اس مقام تک پہنچیں جہاں تک ہم پہنچ ہی نہیں سکتے متضاد ہو جاتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کریم کی نگاہ میں جو مقام پایا اس مقام تک کوئی اور انسان نہیں پہنچ سکتا لیکن اس معنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری قوتوں اور استعدادوں اور صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کی اور یہ قو تیں اور استعدادیں اور صلاحیتیں انسانوں میں سب سے بڑی تھیں۔اس لئے اُسوہ یہ بنے گا کہ جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے ہر انسان یہ کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی قوت اور صلاحیت اس کو دی ہے اس دائرہ استعداد میں وہ جتنا اونچا جا سکتا ہے وہ جائے اور کسی کو تاہی اور غفلت کے نتیجہ میں وہ ایسا نہ ہو کہ جس مقام پر اللہ تعالیٰ کی عطا اسے پہنچانا چاہتی تھی اس مقام سے وہ نیچے گرا ر ہے۔پھر یہ کئی آیات ہیں اسی ترتیب سے میں ان کو لے رہا ہوں۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (الزمر: ۱۴) کہہ کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ اعلان کیا اور ہر مخلص مسلم کو بھی یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہمارا رب کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کرو۔اس طرح پر کہ اطاعت اس کے لئے خالص ہو جائے اور اسلام کے سب حکموں کی پیروی کرو۔وہ ایک ہی راستہ خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف جو لے جانے والا ہے یعنی دینِ اسلام، اس پر گامزن رہو۔تو یہاں یہ فرما یا کہ اگر میں