خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 74

خطبات ناصر جلد نهم ۷۴ خطبه جمعه ۱۰ را پریل ۱۹۸۱ء دین نہیں، کوئی ایسی ہدایت جو قرآن کریم سے متضاد ہو یا اس سے مخالف ہو یا اس سے مختلف ہو ایسی نہیں جو انسان کو ان راہوں کی طرف ہدایت دے سکے جو راہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔اس اعتقاد پر ہم احمدی کھڑے کئے گئے ہیں اور اس اعتقاد پر ہم احمدی قائم ہیں کہ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ زمر میں فرماتا ہے۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ ( الزمر : ١٢) قرآن کریم کا ہر حکم ایسا ہے کہ جس کے پہلے مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور چونکہ ہمیں آپ کے اُسوہ کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔اس لئے مسلمان جو ہیں ، جہاں بھی ہیں، جب بھی تھے ، جب بھی ہوں گے۔ہر مسلمان جو ہے اس کو ہر حکم مخاطب کرتا ہے کہ تو کہہ دے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (اتی اُمِرْتُ ) کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ اطاعت صرف اسی کے لئے 66 مخصوص کر دوں۔“ اس آیت میں دو چیزیں واضح طور پر بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے۔دوسرے یہ کہ عبادت کے معنی اسلام میں بڑے وسیع ہیں۔عبادت کے معنی یہ ہیں مُخْلِصًا لَهُ الدِّین کہ اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں یعنی قرآن کریم کے ہر حکم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوئی۔قرآن کریم کہتا ہے مثلاً کسی پر بدظنی نہ کرو یہ حکم ہے اللہ تعالیٰ کا جو شخص بدظنی اس لئے نہیں کرتا اس نیت کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے شرط بن گئی۔وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ( الزمر : ۱۳) اور مجھے صرف یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں بلکہ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے دائرہ استعداد میں جو شرف اور مرتبہ اسلام انسان کے لئے لے کر آیا اپنے دائرہ استعداد میں آگے سے آگے بڑھتا چلا جاؤں اور ایک ارفع مقام کو حاصل کروں۔سب سے ارفع مقام تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور مسلمین کے آپ خاتم ہیں اور آپ ہی حقیقی معنی میں اَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ہیں اس کے معنی پہلوں نے بھی یہی کئے ہیں کہ زمانہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ شرف اور مرتبہ اور مقام کے لحاظ سے