خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد نهم ۶۷ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۱ء کی آئندہ نسل جو ہے وہ اس نیک اور پاک اور مطہر ماحول میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ پرورش پا کر وہ بنیں جو اللہ تعالیٰ انہیں بنانا چاہتا ہے۔انسان زور بازو سے متقی نہیں بن سکتا، پر ہیز گار نہیں بن سکتا۔قرآن کریم نے کھول کے یہ بات بیان کی اور دھڑلے کے ساتھ اس کا اعلان کیا اور حکم دیا ہمیں۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) کبھی اپنے آپ کو مظہر نہ سمجھنا۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم :۳۳) کیونکہ روحانی پاکیزگی کا تعلق اس بات پر ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نے انسان کی سعی کو قبول کیا اور مشکور ہوئی وہ سعی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں اپنی محبت اسے عطا کی۔متقی وہ نہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ میرے دل میں خدا کی خشیت ہے اور میں اس کی پناہ لینا چاہتا ہوں۔متقی وہ ہے جس کے دل میں واقع میں خدا کی ایسی خشیت ہے جو خدا کو پسند آئی اور خدا نے اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔اپنے زور بازو سے تو تم خدا کی پناہ میں نہیں آسکتے۔اپنے فضل سے وہ تمہیں اپنی پناہ میں لے سکتا ہے۔پس عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بے انتہا دعا میں کرو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقام پر کھڑا کرے جس مقام پر ایک احمدی باپ کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرنا چاہتا ہے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو تا قیامت اللہ تعالیٰ اس بات کی توفیق عطا کرتارہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عظیم انقلاب، انقلاب انسانی زندگی میں ایک ہی ہوا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا انقلاب ہے ( باقی سارے ہنگامے انقلاب نہیں بلکہ اس کے الٹ چلنے والی لہریں ہیں انسانی زندگی کی ) تا کہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا انقلاب نوع انسانی کو اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ لپیٹ لے اور ان کا احاطہ کر لے اور یہ خوشحال زندگی اور ایک حسین معاشرہ نوع انسانی کی زندگی میں پیدا ہو اور پھر قیامت تک وہ قائم رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے اور ہمیں دعا کرنے کی توفیق دے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔تا کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۱/۲۹ پریل ۱۹۸۱ء صفحه ۱ تا ۳)