خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 55
خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ نوع انسانی کو تباہی سے بچانے کی کوشش کریں خطبه جمعه فرموده ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی وجہ سے ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ نوع انسانی کو ، ساری دنیا کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں جس کی طرف وہ بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔اس قدر مشکل ہے یہ کام اور اس قدر عظیم کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو یہ فریضہ انجام نہیں دیا جا سکتا۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے قرآن عظیم نے جو ہمیں تعلیم دی اس کی پہلی شق یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کے لحاظ سے پاک اور مطہر ہو کیونکہ اللہ پاک ہے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔اس لئے گناہ جو ہیں جو انسان کو اللہ سے دور لے جانے والے ہیں یا تو وہ سرزد نہ ہوں۔اگر سر زد ہوں تو اللہ تعالیٰ سے رحمت اور فضل حاصل کیا جائے یا قرآن کریم نے ایسا راستہ بتایا ہو کہ وہ گناہ معاف ہو سکیں کیونکہ جو گند میں ملوث اور ناپاک وجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث نہیں ہو سکتا لیکن یہ تو بنیادی منفی حصہ ہے ہماری زندگی کا۔دوسری شق اس کی یہ ہے کہ ہمارے اعمال خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اتنا حسن اپنے اندر رکھتے ہوں اور اتنا نور