خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 49

خطبات ناصر جلد نهم ۴۹ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء تم نے غفلت برتی ہے اپنے گھوڑے سے اس کو کرنی چاہیے تھی Massage۔باوفا گھوڑا ہے۔آج کل اور پرسوں اسی وفا کے اظہار کے لئے جماعتِ احمد یہ یہاں گھوڑوں کی بعض دوڑیں اور نیزہ بازی وغیرہ کی کھیلیں یعنی ایسی کھیلیں جو مفید ہیں اور نمائش ان کی اور یہ کہ گھوڑے جو ہیں وہ کتنا پیار کرنے والے ہیں یہ سارا کچھ سکھانے کے لئے یہاں ہوگی۔بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں سوچتے ہی نہیں۔پندرہ سو سال سے اُمّتِ مسلمہ گھوڑے سے اس لئے پیار کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے گھوڑے کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کے ماننے والوں کا پیار رکھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے دل میں وفا ، وفا کی جو خاصیت ہے، جو جذ بہ ہے، جو صفت ہے اس کو اس طرح گاڑ دیا کہ وہاں سے جاہی نہیں سکتی اور عرب گھوڑے اور ہر دوسرے گھوڑے میں بھی فرق آپ کو نظر آئے گا کیونکہ بعض ایک عرب گھوڑی خالص بھی دیکھیں گے آپ اور پچاس فیصد عرب بھی، شکل بدل جاتی ہے اس کی پچھتر فیصد۔عرب اتنا پیار کرتا ہے کہ یہاں ہمارے پیچھے بھی ہیں کچھ گھوڑے۔میں اگر باہر نکلوں تو ڈیوڑھی میں میرے پاؤں کی آواز سن کے ( کان بڑے تیز ہیں گھوڑے کے ) اس وقت وہ اپنا کھانا چھوڑ کے اور کھڑکیوں کے اوپر منہ نکال کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک انگریز نے لکھا ہے کہ ہم سے ہمارا گھوڑا اتنا پیار کیوں نہیں کرتا جتنا عرب میں عرب کے مسلمانوں سے کرتا ہے۔تو یہ سوال کر کے اور اس نے کہا ہے کہ اس کا جواب یہ ہے کہ جو عرب اپنے گھوڑے سے پیار کرتے ہیں ہم اپنے گھوڑے سے وہ پیار نہیں کرتے۔وہ بھی ہم سے نہیں پیار کرتے۔یعنی اتنی اس کو سمجھ اور پیار دیا ہے کہ انگریزوں نے جو بہر حال متعصب ہیں وہ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اتنا پیار کرتا ہے عرب اپنے گھوڑے سے عرب گھوڑا اپنے مالک سے کہ اگر چھ سات سال کا بچہ تین سال کی بہن کو بغیر کاٹھی ڈالے، بغیر لگام کے، بغیر رسے سے بندھے ہوئے کے ان کے خیموں کے پاس ہی جہاں وہ ڈیرہ ڈالتے ہیں بدو سردار شیخ وہ پیٹھ کے اوپر بٹھا دے تین سال کی بہن کو تو جب تک وہ بہن او پر بیٹھی رہتی ہے وہ اپنا پاؤں بھی نہیں ہلاتا کہ کہیں یہ نیچے نہ گر جائے۔یہ تو ہوا نا گھوڑے اور انسان کا رشتہ لیکن اس کے اندر جو پیار خدا تعالیٰ کا ہمارے لئے جھلک