خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 40
خطبات ناصر جلد نہم ۴۰ خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۱ء حکم کو تو ڑا جارہا ہے۔قرآن کریم کا یہ حکم تھا کہ مجھے بھی اتنی بلند آواز سے نہ پڑھنا ( قرآن عظیم کو بھی) کہ تمہارے ہمسائے کو یا کسی اور کو تکلیف پہنچانے والا ہو۔کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا۔قرآن کریم کا حکم تھا کہ مجھے تیزی سے نہ پڑھنا اس کا فائدہ کوئی نہیں حقیقت یہ ہے کہ قرآن کوئی تعویذ تو نہیں ہے۔کوئی جادو تو نہیں ہے۔یہ تو وعظ ہے، یہ ایک نصیحت ہے، ایک تعلیم ہے، یہ ایک حکمتیں بتانے والا مذہب ہے۔وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً (المزمل : ۵) کی مفسرین نے تفسیر کی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس طرح پڑھو کہ صرف لفظ لفظ نہیں بلکہ ہر لفظ کا ہر حرف جدا جدا تمہارے ذہن میں حاضر ہوتا چلا جائے آرام کے ساتھ ، سوچتے ہوئے اس کی تلاوت کرو، موقع دو سننے والے کو کہ وہ بھی سوچے اور اس پرغور کرے۔ہوا میں صوتی ارتعاش پیدا کرنا ثواب نہیں ، دل اور روح کوگر ما دینا اور ہلا دینا یہ ثواب ہے اور اسی کے لئے آیا ہے قرآن کریم۔پس کوشش کریں کہ ہر اس راہ سے آپ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں جس راہ سے خدا آپ پر فضل کرنا چاہتا ہے اور تمام وہ احکام قرآنی جو ہمارے سامنے رکھے گئے ہیں اور پھر ان کے جو مختلف پہلو اور زاویے ہمیں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں اس لحاظ سے ہم اپنی زندگی کو گزارنے والے ہوں۔ہمسائے کے ساتھ سلوک ہے۔گرے ہوئے کو اٹھانا ہے۔دکھوں کو دور کرنا ہے۔ہر شخص کی عزت کرنی ہے۔انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا۔انسان کے کسی حصے کو بھی اس دائرے سے جو اشرف المخلوقات کا دائرہ ہے باہر نہیں نکالا اسلام نے ، خواہ کتنا ہی علمی لحاظ سے، دینی لحاظ سے کمزور ہو۔مثلاً بت پرست جو افریقہ کے جنگلوں میں رہتے ہیں اور بالکل کوئی تہذیب بھی نہیں ان کی لیکن انسان ہونے کے لحاظ سے، انسانی شرف کے لحاظ سے ان کی بھی عزت کی مسلمانوں نے لیکن اب ویسے تو نہیں رہے وہ ، تنزل کا دور ختم ہو گیا۔اب پھر اسلام کے دائرہ اسلامی میں داخل ہو گئے۔اسی پیار کے نتیجے میں، اس بات کی وجہ سے کہ ان کو کسی آنکھ میں اپنے لئے عزت اور شرف کا جذ بہ نہیں نظر آیا سوائے مسلمان کی آنکھ کے۔جب میں ۷۰ء میں گیا ہوں افریقہ تو میں نے بڑے دکھ سے محسوس کیا کہ افریقن محبت کا بھوکا ہے جب میں نے ایک افریقن بچے کو اٹھا کے گلے لگایا اور پیار کیا تو وہ ہزاروں کا