خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 36
خطبات ناصر جلد نہم ۳۶ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۸۱ء تہجد کی نماز اونچی اونچی نہ ہو۔اس میں بعض استثناء ہیں۔مثلاً رمضان کے مہینے میں لیکن وہ جو ہم تراویح کی شکل میں نوافل پڑھتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے پتہ لگتا ہے کہ گھر میں پڑھنا زیادہ اچھا ہے لیکن بعض کمزور لوگ چونکہ گھروں میں نہیں پڑھ سکتے ان کو اس نیکی سے رمضان میں محروم کرنا پسند نہیں کیا گیا۔اس لئے ان کے لئے تراویح مقرر کر دی گئیں ورنہ تہجد گھر کی نماز ہے۔خاموشی کی نماز ہے اور میں نے بتایا اصل تو بنیاد ہے صبر اور لرضاء باری یعنی ثابت قدم رہنا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں۔اس کے لئے ایک تو یہ کہا کہ دعائیں کرو اس کے بغیر تمہیں ثبات قدم نہیں مل سکتا۔دوسرے یہ کہا کہ ایک آدھ چیز نہیں بلکہ ہر وہ طاقت اور صلاحیت اور قابلیت اور ہنر جو تمہیں دیا گیا ہے یا دولت یا مال یا اقتدار یا فراست کے نتیجے میں شہرت جو تمہیں ملی ہر چیز کو تم نے خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق خرچ کرنا اور استعمال کرنا ہے۔اور تیسرے یہ کہا کہ وَيَدْرَرُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَة یہ نیکی کے کام ہیں۔نیکی کے کام کو اس طرح نہ کرو کہ اس کے نتیجہ میں فتنہ و فساد پیدا ہو بلکہ اس طرح کرو کہ جس کے نتیجے میں فتنہ اور فساد اور برائی اور سیہ جو ہے اس کا علاج ہو جائے اور دور ہووہ۔اور ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا اگر اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اپنے فضل اور رحمت سے کہ ہم اس کی رضا کے لئے اس کے حکم کے ا مطابق اپنی زندگیاں گزار نے والے ہوں کہ اوليك لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ اپنی اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق جو کام کئے ہوں گے اور مقبول ہو جائیں گے وہ۔اس کے مطابق ہمیں مقام مل جائے گا جنت میں۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ بنائے اور اپنا فضل اور رحمت اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں ہم پر کرے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۱ء صفحه ۲ تا ۴)