خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 440

خطبات ناصر جلد نہم ۴۴۰ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍ مارچ ۱۹۸۲ء اب ہر ایک جو یہاں بیٹھا ہے یا جس تک میری آواز پہنچے اگر وہ دو سیکنڈ کے لئے سوچے کہ جو زمانہ گزرگیا ستر سال کا یا پچاس سال کا اپنی عمر کے لحاظ سے بیس سال کا یا دس سال کا گزرنے کے بعد اس کے سوا کوئی احساس باقی نہیں رہتا کہ شاید چند سیکنڈ ہی ہیں جو گزرے لیکن اُخروی زندگی پر یقین جو ہے ہمیں ، وہ ہمیں یہ تسلی دیتا ہے کہ وہ ابدی زندگی ہے، نہ ختم ہونے والی۔بنیادی طور پر اُخروی زندگی کی دو عجیب خصوصیات اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھیں۔ایک یہ کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہے۔دوسرے یہ کہ ہمیشہ حرکت کرنے والی ہے۔حرکت رفعت کی طرف ، خدا تعالیٰ کے زیادہ پیار کی طرف اللہ تعالیٰ کے عرفان کو زیادہ حاصل کرنے کی طرف، لذت وسرور کا احساس پہلے سے ہر آن زیادہ ہو جانے کی طرف حرکت۔لیکن یہ ورلی زندگی غفلت اور کھیل کا سامان ہے۔اس میں خوشیاں بھی زندگی کے اندر، اسی زندگی کے دائرے میں ہمیشہ رہنے والی نہیں ہوتیں۔خوشی ہوتی ہے، چند گھنٹوں کے لئے ہوتی ہے۔کئی یہاں بھی شاید نوجوان بیٹھے ہوں جن کو مثلاً ہاکی کی کھیل سے بہت پیار ہے اور وہ دیکھتے ہیں۔میں نے پیچھے بتایا تھا باسکٹ بال والوں کو کہ ہم تو ہر خوبصورتی میں خدا تعالیٰ کے حسن کا جلوہ دیکھتے ہیں۔اس واسطے جہاں بھی ہمیں خوبصورتی نظر آئے ہم الْحَمدُ لِلهِ پڑھنے والے ہیں۔تو کھیل میں بھی بڑی خوبصورت Move (مود) کہتے ہیں ان کو، وہ ہوتی ہیں اور بڑی بھیا نک ، بدشکل کہہ دیں ہم ، بڑی مو بھی ہوتی ہیں لیکن جو ہا کی کا میچ دیکھتا ہے وہ ایک گھنٹہ کچھ منٹ کے بعد ختم ہو گیا۔لیکن جو جنت کی خوشی ہے وہ ایک گھنٹہ یا ایک دن یا ایک مہینہ یا ایک سال یا ایک صدی یا ایک Million کا زمانہ ( لفظ مجھے پوری طرح نہیں رہا ذہن میں ) یعنی لاکھوں سال یا اربوں سال یا کھربوں سال کا زمانہ تو نہیں ہے۔وہ تو نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔پھر اس میں حکمت یہ ہے، یہ جو تبدیلی ہے یعنی لذت کا بڑھتے چلے جانا اس واسطے کہ اگر لذت اور سرور خواہ وہ روحانی ہو خواہ اس کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہو اگر اس میں ٹھہراؤ آجائے تو بور ہو جائے گا آدمی۔ایک ہی چیز اگر آپ کو بہت اچھی لگتی ہے اور صبح شام آپ کی بیوی وہی پکا کے آپ کو کھلا نا شروع کر دے تو دو، چار، پانچ دس دن کے بعد آپ کہیں گے کہ