خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 441
خطبات ناصر جلد نهم ۴۴۱ خطبہ جمعہ ۱۹ ؍ مارچ ۱۹۸۲ء یہ کیا شروع کیا ہوا ہے میرے ساتھ تم نے سلوک ؟ تو بوریت کوئی نہیں ہے کہ آدمی کہے کہ اب میں یہ کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں اس لئے کہ وہ Change ( چینج ) ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صبح انسان جنت میں جو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرے گا شام کو اس سے بڑھ کے کرے گا۔اگلی صبح اس سے بھی بڑھ کے کرے گا۔اس واسطے ان لوگوں کا خیال بالکل غلط ہے کہ وہاں عمل نہیں ہے۔جنت میں عمل ہے، امتحان نہیں ہے۔عمل ہے، اس کی جزا ساتھ ساتھ ملتی ہے یعنی اگر ( میں فلسفہ بتانے لگا ہوں آپ کو، بہت سارے سمجھ جائیں گے ) جنت میں داخل کئے جانے کا استحقاق ہماری ورلی زندگی کے مقبول اعمال نے پیدا کر دیا تو جو پہلے دن جنتی نے عمل کیا اس کا استحقاق کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔وہ یہی ہے۔پھر وہ Plus ( پلس ) ہو گیا نا اس استحقاق کے ساتھ۔پھر اگلے دن کا وہ Plus ( پلس ) ہو گیا اس استحقاق کے ساتھ ، اس لئے اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے پہلے سے زیادہ ، ان کا احساس خوشی کا ، پہلے سے زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔دوسری بات ابھی آئی تھی میرے ذہن میں وہ نکل گئی کسی اور وقت سہی ) اب میں واپس آ جاتا ہوں هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ کی طرف۔میں نے جماعت کو کہا ہر شخص علم حاصل کرے۔میں نے ابتدا کی تھی اپنے بچوں سے اور ان کا بھی ابتدائی پروگرام بنایا کہ ہر بچہ ہمارا جو ہے وہ میٹرک تک پڑھے۔میرے ذہن میں تھا کہ چند سالوں تک جب حالات زیادہ اچھے ہو جائیں گے ہمارے تو میں کہوں گا ہر بچہ ایف۔اے، ایف۔ایس۔سی یعنی انٹر میڈیٹ تک پڑھے۔پھر میں کہوں گا ہر بچہ ہمارا گریجویٹ، گریجویشن تک یعنی بی۔اے ، بی۔ایس۔سی تک پڑھے پھر میں کہوں گا کہ ہر بچہ ہمارا ایم۔اے ، ایم۔ایس۔سی تک پڑھے۔اس میں کچھ رہ جائیں گے اپنی قابلیت کی وجہ سے۔بس اس طرح ہمارا علم کے میدان میں جو محاذ ہے وہ مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔اب میں کہتا ہوں ہر احمدی اس آیت کی روشنی میں هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ کب عطا کرے، عقل سلیم عطا کرے اس کے صحیح استعمال کی طاقت اور استعداد عطا کرے اور آپ کے ذہنوں میں جلا پیدا کرے اور قرآن کریم جو سر چشمہ ہے غیر محدود علوم کا ، اس میں سے آپ ہر روز ہی اپنی اس