خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 428
خطبات ناصر جلد نهم ۴۲۸ خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء آگے انسان کی خدمت کر رہے ہیں، تو کچھ خدمت نباتات و جمادات اجسام وحیوانات کی وساطت سے انسان کی کر رہے ہیں۔نباتات و جمادات کچھ خدمت بالواسطہ نہیں ، بلا واسطہ ارواح کی یعنی انسان کی جس کو خدا تعالیٰ نے قائم رہنے والی روح عطا کی ہے اس کی کر رہے ہیں۔سَخَّرَ لَكُم ما فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴ ) کہا گیا۔تو رَبُّ العلمین کی ربوبیت کا تعلق تمام اجسام سے ہے، ہر چیز جو مخلوق ہوا اور ارواح سے بھی ہے اور تمام اجسام جو ہیں وہ ایک جہت کی طرف جارہے ہیں۔پہلے وہ ملتے ہیں انسانی زندگی کے ساتھ۔پھر انسان کی جو ہے کوشش اور تگ و دو اور دوڑ یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن میں روشنی پیدا کرے، اچھے اخلاق کا مالک ہو، روحانی میدان میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے اور اپنے لئے ایک ایسی پیاری ، خوشحال ابدی زندگی پائے جو مرنے کے بعد ملتی ہے انسان کو۔تو ہم کھیل اس لئے کھیلتے ہیں کہ ہمارے لئے جنت میں جانا آسان ہو جائے۔ہم وہ بوجھ اٹھا سکیں جن بوجھوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ جنت میں بھیجنے کے سامان پیدا کرتا ہے اپنے فضل سے۔یہ جسمانی استعدادیں اور صلاحیتیں جو ہیں ان کا تعلق ربوبیتِ رَبُّ الْعَلَمِینَ سے ہے۔دوسرے ہیں ذہنی صلاحیتیں ، ان کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفت رحمن سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ہر جاندار کو جس میں انسان بھی شامل ہے اس کے مناسب حال صورت اور سیرت بخشی۔جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی یا جس قسم کی بناوٹ جسم اور اعضا کی حاجت تھی وہ سب اس کو عطا کر دیئے۔تو صفت رحمانیت کا تعلق سارے جانداروں سے ہے، حیوانات سے ہے اور تمام حیوانات کم یا زیادہ ذہن رکھتے ہیں، فوری نتیجہ نکالا۔شکاری جانتے ہیں کہ ہرن جب شکاری کے سامنے جھاڑیوں میں سے نکل کے آتا ہے تو اسے ایک سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا یہ نتیجہ نکالنے میں کہ یہاں مجھے خطرہ ہے اور اس پھرتی سے وہ گھومتا اور پھر جھاڑیوں میں غائب ہو جاتا ہے۔اس کا تعلق ذہن سے ہی ہے نا۔اس کے گھٹنوں سے یا اس کے پیروں سے یا اس کے سینگوں سے تو نہیں