خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 417
خطبات ناصر جلد نهم ۴۱۷ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل کو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو خطبه جمعه فرموده ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پہلے آٹھ ، دس روز بڑے شدید انفلوئنزا میں گزرے۔اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔بیماری تو دور ہو گئی ہے کچھ ضعف ابھی باقی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا یہ بھی دور ہو جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم " كَافةً لِلنَّاسِس‘ مبعوث ہوئے یعنی کسی ایک قوم کی طرف یا کسی ایک خطہ ارض کی طرف یا کسی ایک زمانہ کی طرف نہیں بلکہ قیامت تک کے سب انسانوں کی طرف آپ کی بعثت تھی اور آپ کی یہ بعثت بشیر ونذیر ہونے کی حیثیت میں بھی تھی۔اس کے علاوہ بھی آپ کی بہت سی صفات ہیں لیکن آپ کی بنیادی صفات اور مقاصد بعثت میں بشیر اور نذیر ہونا بھی ہے۔آپ پر ایمان لانے والے بھی ہیں۔اُس وقت بھی پیدا ہوئے۔اُس وقت سے پیدا ہو رہے ہیں۔آج بھی یہی کیفیت ہے اور آپ کا انکار کرنے والے بھی ہیں۔آپ کا بشیر اور نذیر ہونا ہر دو کے لئے ہے یعنی آپ نے اپنے ماننے والوں کو بھی ہشیار کیا اس بات سے کہ ایسی غلطی نہ کر بیٹھنا کہ ایمان لانے کے بعد تمہارے دلوں میں کبھی پیدا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کا پیار حاصل