خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد نہم ۴۰۸ خطبه جمعه ۱۹ / فروری ۱۹۸۲ء کو غالب کرنے کے لئے جو یہ مہم جاری ہے اس میں برکت ڈالے اور ہماری زندگی کی جو سب سے بڑی خوشی ہے کہ ہم اسلام کو غالب ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھیں وہ خوشی ہماری پوری کرے اور ہمیں توفیق دے کہ اسی کے مطابق ہم اور زیادہ اس کے سامنے عاجزانہ جھکنے والے اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بن جائیں۔میں نے اشارہ کیا کہ ترجمہ صحیح اور تغیر صحیح ہونی چاہیے اس کا کوئی معیار ہونا چاہیے اس سلسلہ میں بہت ساری باتیں ہیں جو دیکھنی پڑتی ہیں چند باتوں کا میں ذکر کروں گا۔ایک تو یہ ہے کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے کسی ایک لفظ کا بھی ایسا ترجمہ کرنا جائز نہیں جس کو عربی جائز نہ کہتی ہو یعنی جو ترجمہ یا جو معنی لغت عربی نے کسی عربی لفظ کے بتائے ہیں اس سے باہر نہ ہو ویسے تو چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کو نازل کرنے والا ہے اس واسطے وہ اپنی حکمت کا ملہ اور قدرت کا ملہ سے عربی الفاظ استعمال کرتا ہے مثلاً زکوۃ کے بارہ چودہ معنے ہیں۔تو بہت سے معانی میں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کی جاسکتی ہے سیاق و سباق کے لحاظ سے۔تبھی یہ چھوٹی سی کتاب اتنے عظیم اور وسیع علوم پر حاوی ہوگئی۔دوسرے یہ کہ کوئی ایسا ترجمہ یا تفسیر نہ کی جائے جو قرآن عظیم کی کسی دوسری آیت یا آیات کے خلاف ہو اور اس ترجمے اور تفسیر کی تائید دوسری کوئی آیت نہ کرتی ہو بلکہ اس کے خلاف بات کر رہی ہو۔میں ایک مثال لیتا ہوں۔عیسائی پادریوں نے اس پر بہت کچھ اعتراض کیا۔”حور‘ کا لفظ ہے کہ جنت میں حوریں ہوں گی۔تو نا سمجھی سے انہوں نے اعتراض کر دیئے۔اس ایک لفظ کو لے کے جو عیسائیوں کی طرف سے قابل اعتراض بنا اس کو لے کے میں آپ کو مثال دے رہا ہوں کہ ایسے کوئی معنے نہیں ہونے چاہئیں حور کے لفظ کے جس کی تائید خود قرآن کریم کی آیات نہ کرتی ہوں اور اگر وہ معنی ہم کریں جس کی تائید قرآن کریم کی آیات کر رہی ہیں تو کوئی خرابی نہیں پیدا ہوتی ، کوئی فساد نہیں پیدا ہوتا ، کوئی اعتراض نہیں پیدا ہوتا۔قرآن کریم میں چارسورتوں میں چار آیات میں حور کا لفظ استعمال ہوا ہے اور میں سورۃ کا نمبر یعنی قرآن کریم میں کس جگہ وہ آئی ہے ترتیب سے دوں گا تا کہ وہ لوگ جو علمی ذوق رکھتے ہیں