خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 409

خطبات ناصر جلد نهم ان کو بعض مسائل اور بھی معلوم ہو جا ئیں۔۴۰۹ خطبه جمعه ۱۹ / فروری ۱۹۸۲ء سورہ طور ! یہ باونویں سورۃ ہے اور اس کی اکیسویں آیت میں حور کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اس سے پہلے جو مضمون چل رہا ہے وہ میں نے عربی کے الفاظ تو نہیں لئے سمجھانے کے لئے اس کا ترجمہ لے لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن متقی جنتوں میں نعمتوں میں ہوں گے جو کچھ ان کا رب ان کو دے گا اس پر خوش ہوں گے اور ان کا رب دوزخ کے عذاب سے ان کو بچالے گا۔اس میں بہت ساری چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ایک تو یہ کہ اسلام میں دوزخ کا جو تصور ہے یعنی دکھ اور در داور خدا تعالیٰ کی ناراضگی وغیرہ اس قسم کا کوئی احساس جنتی کونہیں ہو گا۔خدا تعالیٰ خوش ہوگا ان سے ان کو خوش رکھے گا۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہر آن ان پر نازل ہوں گی وہ پائیں گے وہی جو خدا چاہے گا اور جو خدا چاہے گا اس میں وہ خوشی محسوس کریں۔اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہی سب سے بہتر ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: ۲۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ایک وقت میں یہ دعا کی تھی اور دوزخ کے عذاب سے وہ بچالئے جائیں گے۔ان کو کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچے گی جنت میں۔خدا تعالیٰ انہیں کہے گا کھاؤ اور پیو اور یہ کھانا پینا نیا برکت والا ہوگا۔چربی نہیں چڑھائے گا تمہارے جسموں پر جیسے اس دنیا میں ہو جاتا ہے غلطی کر کے یعنی متوازن غذا، ضرورت کے مطابق غذا ان کی ہر وقت ہر آن ضرورت کے مطابق غذا ملے گی۔احادیث میں آتا ہے کہ مومن جنت میں ہر روز ترقی کر رہا ہے روحانی طور پر۔اس کے لئے جس غذا ، جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی ملے گی۔ہمیں کچھ نہیں پتہ وہاں کیا ہوگا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں لیکن ملے گی ہر وہ چیز انہیں جو برکت والی ہوگی اور انتخاب خدا تعالیٰ کرے گا۔وہ انسان نہیں کرے گا کہ غلطی کا احتمال ہو۔تو بڑی عظیم زندگی ہے جس میں کھانے پینے کا انتخاب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا جائے گا اور اپنی تمام برکتوں کے ساتھ وہ کھانے ان کو مہیا کئے جائیں گے اور برکتوں کے وارث ہوں گے اور رحمتوں سے انہیں نوازا جائے گا اور یہ اس لئے ہوگا ( بڑا اہم ہے یہاں یہ بیان ) کہ تم جو اعمال اس ورلی زندگی میں کرتے رہے ہو خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کر لیا۔