خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 26
خطبات ناصر جلد نهم ۲۶ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء موجود تمہارے مسائل حل کرنے کے لئے۔مجبور ہو جاؤ گے اپنے فائدہ کے لئے تم اسلام پر ایمان لانے۔زبردستی کوئی نہیں کرے گا تمہاری اپنی خواہش ہوگی تمہارا اپنا دل کہے گا کہ ہمیں یہ مذہب قبول کر لینا چاہیے لیکن قرآن کریم کی عظمتیں یعنی اتنا خیال امة کہا تھا نا۔ہدایت بھی دینی تھی نا کہ تم نے بھلائی کیا کرنی ہے۔میں تو جب سوچتا ہوں سچ مچ جذباتی (Emotional) ہو جاتا ہوں کہ اتنی عظمت ہے اس کتاب میں کہ اپنی تمام عظمتوں کے باوجود کہا کہ دیکھو! میری اونچی تلاوت کر کے کسی اور کو دکھ نہ پہنچاؤ۔اتنی بڑی عظمت لیکن کوئی سمجھے ان عظمتوں کو اور ان لوگوں تک پہنچائے تب اسلام وہاں پھیلے آپ تو سمجھتے ہیں۔آپ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔میں نے اعلان کیا اس صدی کے شروع میں کہ بڑی پیشن گوئیاں ہیں۔بڑی بشارتیں ہیں۔بڑی خوش خبریاں ہیں۔بڑی ذمہ داریاں ہیں جو اور ڈال دی گئیں ہم پر۔اسلام تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ جیسا کہ مقدر ہے جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی گئی ہے پندرھویں صدی ہجری میں ساری دنیا پر غالب آئے گا اور نوع انسانی کی بھاری اکثریت اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے چمٹی ہوئی نظر آئے گی لیکن اس کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیم نے اپنے زمانے میں اپنی زندگیوں میں دیں اور آنے والی نسلوں نے تین سو سال تک ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قربانیاں دی تھیں۔ایک صدی کی تو بات ہے۔گھبرانے کی کیا بات ہے۔ایک ہزار سالہ خوشحال زندگی نوع انسانی کے لئے چھوٹی سی ایک جماعت اگر سب کچھ بھی قربان کر دے تو کوئی ایسی قربانی نہیں ہے نوع انسانی کی خدمت میں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور توفیق عطا کرے کہ اس کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )