خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 25 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 25

خطبات ناصر جلد نہم ۲۵ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء کام شروع کر دیتے ہیں۔اچھا دس پونڈ زیادتی کا نتیجہ کیا نکلا۔یہ جو دس ہزار مزدور ہے اس میں بعض وہ مزدور ہیں جو چھڑے چھٹانک، اکیلے ان کو ماہانہ دس پونڈ کی زیادتی مل گئی نا۔اپنے پہ خرچ کرنا ہے نا اور تو کوئی نہیں۔ایک دوسرا مزدور ہے اس کے تین بچے اور دومیاں بیوی پانچ۔ان کی زیادتی دس پونڈ مہینہ نہیں ان کی زیادتی دو پاؤنڈ مہینہ ہے۔ہر فرد واحد پر تقسیم ہوگی ناخاندان کے وہ زیادتی۔تو میں نے انہیں کہا تم بڑے خوش ہوتے ہو کہ ہم نے ان کی ضرورت کو پورا کر دیا۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ تم نے اس مزدور کی ضرورت کو پورا کر دیا جوا کیلا تھا اور اس کو دس پونڈ تم نے زیادہ دے دیئے۔اس کی ضرورت پوری ہو گئی لیکن اسی کارخانے میں وہ تین چار ہزار دوسرے مزدور جن کے افرادِ خاندان ایک نہیں بلکہ چار پانچ چھ بعض دفعہ ہیں جن کو دو پونڈ ، ڈیڑھ پونڈ ، سوا دو پونڈ اس طرح ان کی زیادتی ہفتہ کی ہوئی ہے۔ان کی ضرورت کو اس اصول کے مطابق تم نے کیسے پورا کر دیا یعنی اصول یہ کہ جس کو دس پاؤ نڈ مل جائیں گے اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔کہتے ! ٹھیک ہے یہ تو ہم نے کبھی سوچانہیں۔میں نے کہا تم نے نہیں سوچا مگر تمہارے خدا اور تمہارے محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے سوچا اور حکم دیا کہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرو۔جب ہم ان کو یہ کہیں کہ قرآن کریم عظیم ہے تمہارے مسائل کو حل کرتا ہے اور خاموش ہو جائیں ان پر کوئی اثر نہیں۔اگر ہم یہ کہیں قرآن کریم عظیم ہے اور تمہارے مسائل کو حل کرتا ہے دیکھو! مثلاً یہ ایک مسئلہ ہے جو تم حل نہیں کر سکتے اور قرآن کریم نے حل کیا ہے۔ایک دوسرا مسئلہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ایک تیسرا۔اس دفعہ میں نے انہیں کہا تم صرف یہ ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم اور دوسرے بہت سارے مہلک ہتھیار ہی اکٹھے کر کے تو پہاڑ نہیں بنار ہے۔انبار ان کے پہاڑوں کی طرح تمہارے مسائل بھی جمع ہو رہے ہیں اور تمہاری مصیبتیں بڑھ رہی ہیں اور تمہاری ناکامیاں جو ہیں ان کی تعداد بھی زیادہ ہو رہی ہے۔تو اسلام تو اگر تم نہ بھی اس طرف توجہ آج کرو تو اسلام انتظار کر رہا ہے اس دن کا جس دن تمہارے مسائل کا انبار اس قدر اونچا ہو جائے گا کہ تمہیں آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا۔تم پاگلوں کی طرح اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارو گے۔اس وقت اسلام تمہارے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں یہاں ہوں