خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 385
خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۵ خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۸۲ء یہ حقیقت کا ئنات ہے کہ ہر شے اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ربوبیت کے احاطہ میں ہے خطبه جمعه فرموده ۱۵ جنوری ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جس اللہ پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ رب العلمین ہے۔اس کا ئنات کی ہر شے مخلوق ہے جسے اس واحد و یگانہ نے پیدا کیا اور ہر شے اپنے قیام کے لئے اس کی محتاج ہے اور اس کی ربوبیت کے دائرہ کے اندر آتی ہے۔یہ کائنات جو ہے جس میں اس کی پیدا کردہ اشیاء ہر قسم کی موجود ہیں، اس میں بڑی وسعت ہے۔انسان اپنی تمام ترقیات کے باوجود، اس کائنات کو اگر سمندر سے تشبیہ دی جائے تو ابھی کنارے پر کھڑا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو سات آسمان مختلف خواص کے پیدا کئے گئے ان میں سے پہلے آسمان کی وسعت ستاروں کی حد تک ہے اور جو مہم ساعلم ان ستاروں کے متعلق انسان نے حاصل کیا وہ یہ ہے کہ بے شمار یعنی جس کو انسان گن نہیں سکتا، گیلیکسیز ہیں، قبائل ستاروں کے اور ہر قبیلہ میں، ہر گیلیکسی میں بے شمار سورج ہیں اور ہر سورج کے گرد دوسرے ستارے گردش کر رہے ہیں اور جہاں ان کو اکب کی زَيَّنَا السَّمَاةِ الدُّنْيَا بِزِينَةِ إِنَّكَواكِبِ (الصفت : ۷) انتہا ہے وہاں پہلے آسمان کی انتہا ہے۔