خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 386

خطبات ناصر جلد نہم ۳۸۶ خطبه جمعه ۱۵ ؍ جنوری ۱۹۸۲ء تو ہر شے اپنے قیام کے لئے ، قائم رہنے کے لئے ایک تو اس نے پیدا کر دی نا جس کو ہم زندگی کہیں گے۔وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔اس نے زندگی دی ہر شے کو اس کے مطابق ، درخت کی اپنی زندگی ہے، پتھروں کی اپنی زندگی ہے مثلاً ہیرے کے متعلق کہتے ہیں کہ ہزاروں سال ذرات ارضی زمین کے ذرات جو ہیں، وہ تدریجی ارتقا کرتے ہوئے ہیرا بنتے ہیں۔اگر وہ زندگی نہیں، کوئی تبدیلی ایسی نہیں جو اس آخری شکل تک اس کو پہنچانے والی ہے تو ہیرا بن ہی نہیں سکتا تھا۔تو ایک تو یہ حقیقت کا ئنات ہے کہ ہر شے جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی ربوبیت کے احاطہ میں ہے۔اور یہ جور بوبیت ہے یہ توازن کے اصول پر ہے یعنی اتنی کثرت مخلوق کی ، جیسے میں نے بتایا کہ صرف ستارے جو ہیں وہ بھی کہتے ہیں بے شمار، شمار میں نہیں ہمارے آسکتے لیکن خالی ستارے تو نہیں۔اس زمین کو لو۔زمین میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں ان کا بھی کوئی شمار نہیں۔آئے دن نئی سے نئی تحقیق جو ہے وہ نئی باتیں ہمارے سامنے لا رہی ہے۔ذرے کے (جس کو ایٹم کہتے ہیں ہم، وہ ایٹم بم بھی بن گیا لیکن سائنس دان نے تسلیم کیا کہ ایٹم کے ) بہت سے ایسے خواص بھی ہیں جو ابھی تک ہمیں نہیں پتہ لگے ان کے اوپر تحقیق ہو رہی ہے۔ایسی ہی ایک تحقیق پر ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو نوبل پرائز ملا لیکن جہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی تحقیق پہنچی وہاں ذرات کے خواص تو نہیں ختم ہو گئے۔آنے والی نسلیں کچھ اور معلوم کریں گی پھر کچھ اور معلوم کریں گی۔اس وقت جو میں بات بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں ایک توازن پایا جاتا ہے یعنی انتشار نہیں ہے بلکہ ہر چیز کا دوسری کے ساتھ تعلق ہے۔اس کائنات کی ہر شے ہر دوسری شے سے ایک توازن کے اصول پر تعلق رکھتی ہے اور انسان ، نوع انسان ، نوع انسان سے مراد یہ ہے کہ وہ نوع جس کو اللہ تعالیٰ نے آزادی دی کہ اس کا ایک خاص دائرہ کے اندر حکم مانے یا نہ مانے ، اور نہ مانے تو اس کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو اور مان لیں تو اس سے اس کا پیار حاصل کریں اور اس کی رضا کی جنتوں میں وہ داخل ہو سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ صرف اس زمین میں اس قسم کی نوع نہیں