خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 375

خطبات ناصر جلد نهم ۳۷۵ خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۸۱ء میں ان پر نازل ہوئیں۔یہ ایک مسلسل حرکت روحانی میدانوں میں جاری ہے۔نہ یہ غلط فہمی ہونی چاہیے کہ جو مُؤْمِنُونَ حَقًّا بن گئے ، مرتے دم تک ان کو کوئی خطرہ نہیں۔اس لئے کہ اس میدان کا کوئی کنارہ نہیں کہ جہاں پہنچ کے انسان کی کنارے پر پہنچنے کی کوشش ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ساری کوشش خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ہے اور جو بعد انسان اور خدا میں ہے وہ غیر محدود ہے، نہ ختم ہونے والا ہے لیکن قریب سے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پیارا نسان اللہ تعالیٰ کا حاصل کرتا رہتا ہے اپنی زندگی میں۔یہ صحیح ہے کہ یہ آئیڈیل ہے بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ میں جو بیان ہوا۔سارے یہاں تک نہیں پہنچے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر ایک کو اس آئیڈیل ، اس اعلیٰ ترین مقام تک پہنچنے کے لئے (Consciously) بیدار زندگی گزارتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے ورنہ ہلاکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مقام کے متعلق جو فرماتے ہیں ایک مختصر سا اقتباس اس وقت میں پڑھ کے دوستوں کو سناؤں گا۔اس کا ایک ایک حرف جو ہے وہ یا درکھنے کے قابل ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔چونکہ یہ جلسہ سالانہ ہمارا تربیت کے لحاظ سے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اس واسطے میں نے اس کی ابتدا آج جمعہ میں اس مضمون سے شروع کی تاکہ آپ کی توجہ اس طرف پھیروں کہ ان دنوں میں خصوصاً آپ کوشش کریں کہ جس قدر اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے آپ اپنی جھولیاں بھر سکیں وہ بھر لیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے آمین۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی مسلمان وہ ہے ( وہ مسلمان جسے مُؤْمِنُونَ حَقًّا کے گروہ میں اللہ تعالیٰ نے شامل کیا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ) جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کوسونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی