خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 24
خطبات ناصر جلد نهم ۲۴ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء بچے کی یہ ساری صلاحیتیں اور استعداد میں اپنی نشوونما میں کمال تک پہنچیں ورنہ وہ اللہ تعالیٰ پیدا ہی نہ کرتا اگر یہ منشانہ ہوتا۔جب اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ ہر فرد واحد کی صلاحیتیں اپنی نشو و نما میں کمال تک پہنچیں تو اللہ تعالیٰ تو جو قادر مطلق اور خالق کل ہے اس نے نوع انسانی کی ہر نسل کے لئے ان صلاحیتوں کو مجموعی طور پر کمال تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی اس نے پیدا کر دی۔اگر کسی کو نہیں ملتی وہ مظلوم ہے اور اس کا حق مارا گیا۔اس کی داد رسی ہونی چاہیے۔ایک غریب کے ہاں وہاں بھی ہو جاتا ہے۔وہاں بھی ہوتا ہے اتنی اچھی ان کی تعلیم نہیں ہے۔ہمارے ہاں بہت ہوتا ہے۔غریب کے ہاں بچہ ہو جائے پیدا ، بڑا ہی ذہین، اس کو پھر کوئی پوچھنے والا نہیں۔میں کالج میں بڑا لمبا عرصہ رہا ہوں۔میرا اندازہ یہ ہے کہ جب میں ۶۵ء میں ہٹا ہوں کالج سے کوئی ایک لاکھ ذہن ہماری قوم نے اپنی غفلت کی وجہ سے ضائع کر دیئے ، ان کو سنبھالا نہیں۔اور اتنی بڑی دولت ہیرے جواہرات انسانی ذہن کی جلا کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔یہ جو تہذیب یافتہ اقوام آگے نکل رہی ہیں وہ اپنے ذہن اور ذہنی صلاحیتوں کے نتیجہ میں آگے نکل رہی ہیں۔سائنس کے میدان میں آگے نکلیں ، دوسرے تحقیق کے میدانوں میں آگے نکلیں۔کسی وقت مسلمان صرف سپین کا ملک ان سارے ملکوں سے آگے نکل گیا تھا ایک اسلامی ملک۔باقی جہاں جو تحقیق ہو رہی تھی اسے ہم نظر انداز کر دیں تب بھی ایک اسلامی ملک ان سب سے آگے نکل گیا تھا اس دوڑ میں۔تو اتنا قیمتی متاع جب خدا تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا میں سمجھتا ہوں اور میں کہتا ہوں اور میں کہتارہا ہوں کہ سب سے بڑا احسان جو اللہ تعالیٰ کسی قوم پر یا ملک پر کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس قوم یا ملک کو ذہین بچے عطا کرنا شروع کر دے۔ایک لاکھ بچہ خدا نے ہمیں دیا اور ہم نے وہ ضائع کر دیا۔اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔بہر حال ان کو میں نے کہا تمہارے ہاں بھی یہ ہے۔مزدور جو ہے موٹی ایک بات ہے آپ آسانی سے سمجھ جائیں گے ، مزدور جب سٹرائیک کرتا ہے مثلاً ایک (۱) کارخانہ ہے کپڑے بناتا ہے پندرہ ہزار مزدور وہاں کام کر رہا ہے۔اس نے سٹرائیک کی اور آپس میں سمجھوتا جو ہوا وہ دس پونڈ ہفتہ زیادتی ہوگئی۔انہوں نے کہا اچھا اب ہم