خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 357 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 357

خطبات ناصر جلد نهم ۳۵۷ خطبہ جمعہ اار دسمبر ۱۹۸۱ء آزمائش کے لئے ہوں گی۔یہ Bracketed ( بریکیٹڈ ) ہوں گی ہماری بشارتوں کے ساتھ ہمارا عذاب نہیں ہوگا۔جس پر آئیں گی ، اس سے یہ نہیں ثابت ہوگا کہ خدا ان سے ناراض ہوا یہ ثابت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے جلوے ان پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔تیسری بات یہاں یہ بتائی گئی کہ اس امتحان میں ( ہر امتحان کے ساتھ یہ لگا ہوا ہے کہ فیل بھی ہو جاتے ہیں لوگ اور کامیاب بھی ہوتے ہیں۔تو یہاں یہ اعلان کیا گیا کہ اس امتحان میں ) پورے وہ اترتے ہیں جو آزمائشی مصیبت ، امتحان کے رنگ میں جو مصیبت آتی ہے جب وہ آئے تو ان کی توجہ اپنے دکھ اور درد کی طرف نہیں ہوتی ، اپنے نقصان کے خیال سے وہ اذیت نہیں اٹھا رہے ہوتے بلکہ آزمائش والی مصیبت ان کو دھکا دے کر اور بھی ان کے رب کے انہیں زیادہ قریب کر دیتی ہے اور وہ شیطانی وسوسوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجود کا ذرہ ذرہ یہ پکارتا ہے اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ ہم اور ہماری ہر چیز اللہ کی ہے اور اسی کی طرف ہم نے لوٹ کے جانا اور اسی سے ہم نے اس کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے۔اور چوتھی بات یہاں یہ فرمائی کہ اگر تم اپنے امتحان میں پورے اُتر و گے تو ایسوں پر ہی اس کی رحمت کا نزول ہوتا ہے نمبر ایک أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (ایسوں پر ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے ) وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ اور ایسے ہی ان تمام انعامات کے وارث ہوتے ہیں جو ہدایت یافتہ جماعتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کئے ہیں اور جن کی بشارتیں ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بظاہر اچھے عمل کرنے والے ہیں وہ آگے دوحصوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔(اسی میں اشارہ ہے۔وہ دوسری آیت میں بھی اس طرف ہے ) سورۃ العنکبوت میں ہے۔اور اچھے عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہوتا ہے، ان مومنوں کا جو اپنے عقیدہ اور عمل پر جھے رہتے ہیں، صبر کرتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں اس سے ہمیں یہ پتہ لگا کہ بظاہر جو صبر کرنے والے ہیں وہ بھی ابھی آزمائش میں ہیں کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کا صبر اللہ پر