خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 333

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۳ خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۸۱ء ضرورت ہے۔یہاں ربوہ میں بھی بہت سے آ جاتے ہیں اور آپ میں سے کسی کو پوچھتے ہیں ہم نے فلاں جگہ جانا ہے۔ایک دوست ہمارا رہتا ہے اس کا راستہ کہاں ہے؟ یہ اللہ کی ہدایت کامل ہدایت انسانوں کی تمام صلاحیتوں کی صحیح، خالص اور پوری نشو ونما کرنے والی جو ہدایت ہے یہ سوائے اللہ کے جو انسان کو جانتا اور پہچانتا ہے اس لئے کہ وہ خالق ہے اور کوئی دے ہی نہیں سکتا۔میں تو آپ کو نہیں جانتا نہ مجھے آپ کے اندرونے کا پتہ۔نہ مجھے آپ کے خیالات کا پتہ۔نہ مجھے آپ کے اخلاق کا پتہ۔نہ مجھے آپ کی دلچسپیوں کا پتہ۔نہ مجھے آپ کی قوتوں اور صلاحیتوں کا پتہ۔میں آپ کے لئے ہدایت کیسے کر سکتا ہوں پیدا۔نہ آپ ایک دوسرے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ہدایت تو وہی دے سکتا ہے جس نے پیدا بھی کیا اور جو ہر وہ علم جس کا ہماری ذات سے تعلق ہے وہ جانتا ہے اسے۔وہ علم وہ رکھتا ہے۔وَاُمِرْنَا لِنُسلِمَ یہاں بھی یہ کہا ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اطاعت کریں لِرَبِّ العلمينَ (الانعام : ۷۲ ) اس رب کی جو عالمین کا رب ہے۔ہمارا بھی رب ہے۔ہماری ربوبیت کے لئے جو اس نے سامان پیدا کئے اس کی طرف وہی رہنمائی کر سکتا ہے۔اس کے لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَمَنْ اَحْسَنُ قَولاً میں جیسا کہ میں نے بتایا عربی لغت کے لحاظ سے تین پہلو پائے جاتے ہیں۔زبان سے اعلان کرنا مذ ہبی ہدایت کے متعلق ، عقائد کے متعلق دل میں اسی کے مطابق عقیدہ رکھنا اور اس کے مطابق اس کے عمل رکھنا۔پھر آگے اس کی تشریح کر دی وَعَيلَ صَالِحًا میں کہ اپنے ایمان کے مطابق اور لوگوں کی ضرورت اور ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان سے نیکی اور وعظ کی بات کرنا اور وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ( المائدة : ۳) کے مطابق ان سے حسن سلوک کرنا اور ان سے تعلق کو قائم رکھنا۔وَ قَالَ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور اپنا نمونہ ان کے سامنے رکھنا۔کہنا کہ دیکھو میں نے اپنے رب کو پہنچانا ہے۔میں عرفانِ ذات وصفات باری رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے تو فیق دی کہ میرے دل میں صحیح عقیدہ محض اس کی رحمت سے راسخ ہوا۔اس کے مطابق میں اعلان کر رہا ہوں اور وہ اتنا راسخ ہے کہ میرے جوارح میرے دل کے تابع ہو کر ہر وقت خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔