خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 323

خطبات ناصر جلد نہم ۳۲۳ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء ہے اللہ اپنے نشان اور پیار کا اظہار اس طریقے پہ کرتا ہے کہ ہماری عقلیں جو پیار وصول کرنے والی ہیں دنگ رہی جاتی ہیں۔میں دو تین دفعہ بتا چکا ہوں کیلگری میں چھوٹی سی جماعت پیدا ہوئی۔چھ سات سال پہلے کی بات ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایک یہاں چھوٹا سا مکان ، کوٹھی نما، فلیٹ نہیں، ( میرا خیال ہے بمشکل ایک کنال رقبہ ہو گا شاید ایک کنال زمین میں بھی نہ ہولیکن ہے کوٹھی نما ) وہ مل رہا ہے کم و بیش ستر ہزار کینیڈین ڈالر کا۔کچھ رقم ہمارے پاس ہے۔کچھ جماعت دے دے تو ہم یہ خرید لیں بچوں کی تربیت نہیں ہوتی اگر مرکز نہ ہو اور نمازیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں اور بہت سارے کام جو جماعت نے کرنے ہوتے ہیں ،مشورے کرنے ہوتے ہیں، تربیتی لیکچر کرنے ہوتے ہیں وہ نہیں ہو سکتے اور ہماری ضرورت کے لئے پوری ہے یہ جگہ، خیر دعاؤں کے ساتھ ان کو اجازت دے دی اور کچھ پتہ نہیں تھا نہ مجھے نہ کسی اور کو اللہ تعالیٰ نے عظیم انعام کرنے کی تدبیر اور منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے خرید لیا۔پچھلے سال جب میں گیا ہوں کیلگری پہلی دفعہ تو وہ مسجد بھی دیکھی ہمشن ہاؤس دیکھا۔ظہر اور عصر کی نمازیں بھی وہاں پڑھیں۔چھوٹی سی ایک جگہ تھی۔مجھے کہنے لگے کہ یہ ہے Residential Area ( ریذیڈنشل ایریا) آپ دُعا کریں اگر یہ کمرشل ایریا بن جائے تو اس کی ایک دن میں قیمت بڑھتی ہے وہ بھی دعا کر رہے تھے میں نے بھی دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کی دعاؤں کو سنا اور کمرشل ایریا بن گیا۔چند ہفتے ہوئے مجھے خط ملا ان کا کہ کیلگری سے سات آٹھ کلو میٹر دور ایک جگہ مل رہی ہے چالیس ایکڑ زمین ایک کنال کے مقابلے میں یعنی چالیس کو آٹھ کے ساتھ ضرب دیں تو ۳۲۰ ہو گئے نا۔اس نسبت سے اللہ تعالیٰ کا فضل۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہاں جو مکان ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ آپ اگر آئیں پھر اور ضرور آئیں تو سارا قافلہ آپ کا اور ہم لوگ بھی وہاں سماسکتے ہیں اور قیمت اس کی ہے تین لاکھ اور پچاس ہزار ڈالر ) اور قیمت کی ہمیں اس وقت کوئی مشکل نہیں کیونکہ جو مکان ہم نے کم و بیش ستر ہزار کینیڈین ڈالر کا خریدا تھا اس کی Offer (آخر) ہے چار لاکھ بیس ہزار یعنی پورے ستر ہزار کے فرق کے ساتھ۔تو میں نے سوچا اور دل میں کہا یہ تو خدا نے عجیب شان کا اظہار کیا مجھے تو ایسے لگا کہ خدا نے کہا یہ پکڑو اپنے پیسے ستر ہزار۔اور یہ جو نیا مکان تین لاکھ پچاس ہزار کا دے رہا ہوں اس میں ایک دھیلہ