خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 322

خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۲ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء جنتیں ہونگی جن کی نعماء کا حسن اور نور اور لذت ہمارے جسمانی اعضاء اور حواس جو ہیں وہ سوچ بھی نہیں سکتے ، ہماری عقل میں نہیں آسکتے۔تو ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنا آخرت اور قیامت پر ایمان لانے میں روک بن جاتا ہے۔پھر ایسا شخص جو اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ہے ، وہ کہتا ہے یہی زندگی سب کچھ ہے ، جو کچھ جس طریق سے مل سکے حاصل کرو اور وہ اپنی روح کو ، اپنے وجود کو ان جنتوں سے محروم کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے پیدا کیں جو قرآن کریم کی اتباع اس رنگ میں کرتے ہیں جس رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھائی۔یہ ہے وَ الَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللهِ۔اس مضمون پر ہجرت“ کے معنی پر زیادہ روشنی ڈالی اس ” لئے کہ آگے آیا تھا الَّذِينَ صَبَرُوا۔یہاں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو شخص صحیح معنی میں ہجرت کرنے والا ہے یعنی ہر چیز خدا کے لئے ترک کرنے کی نیت اور ضرورت کے مطابق ترک کر دینے والا ہے اور جو شخص شہوات کو چھوڑتا ہے اور اخلاق ذمیمہ سے اس طرح دوڑتا ہے جس طرح شیطان لاحول سے دوڑتا ہے اور خطا یا اور گناہوں سے وہ بچنے والا ہے تب وہ صبر کرتا ہے۔صبر کے معنی ہیں کہ جو احکام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کئے ہیں ، جو تعلیم اس نے دی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لینا۔کچھ ہو جائے خدا کے دامن کو ایک دفعہ پکڑ کے اس کو چھوڑ نا نہیں اور صبر کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یعنی جو خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے اس کے نتیجے میں خدا کے سوا اللہ کے مقابل ہر غیر کو چھوڑنا پڑے گا یعنی دوستی اگر خدا کے مقابلے میں آئے گی دوستی قربان کرنی پڑے گی۔اگر آل و اموال خدا تعالیٰ کے احکام چھوڑ کے ملتے ہوں گے تو مال کو چھوڑنا پڑے گا احکام الہی کو نہیں چھوڑ نا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔بہت لمبی تفصیل ہے اور جو شخص ایک، دو، سو، دوسو، ہزار، دو ہزار ، لاکھ، دولاکھ، چیز میں خدا کے لئے چھوڑ رہا ہے جب تک کوئی سہارا مضبوط اس کے سامنے نہ ہو جس کو اس نے ہاتھ سے پکڑا ہوا ہو یہ قربانی نہیں دے سکتا۔تو فرما یا الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ یہ صبر کرتے ہیں اس لئے کہ خدا پر ان کا تو گل ،، ہے۔جو خدا پر توکل کرتے ہیں ”حسبنا اللہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور جن کے لئے اللہ کافی