خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 321

خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۱ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء بھلائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی اسے انسان کی تباہی کے لئے استعمال کرنے کے ہتھیار بنالئے۔تو اہوائے نفس کا نتیجہ تکذیب آیات اور ناشکری آیات باری کی ہے۔تیسرے یہ کہ خواہشات نفس کی جو پیروی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور اس کی مدد اور پناہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔سورۃ الرعد کی آیت ۳۸ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔بڑا سخت نقصان ہے یہ۔اس دنیا کی دوستیاں تو تم دیکھتے ہو روز آج دوستی ہے کل دشمنی میں بدل جاتی ہے۔جس کو آج سر پہ اٹھا یا کل اسے زمین پر گرا دیا۔جس کے لئے آج اپنی جانیں لاکھوں کی تعداد میں قربان کرنے لئے تیار ہو گئے ، اس کی جان لے لی اگلے روز تو خواہشات نفس کی پیروی اللہ کی دوستی اور اس کی پناہ سے محروم کر دیتی ہے۔اور چوتھی بات یہ بتائی کہ گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کرنا ، ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنا دل کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے پھر تو میں ہی میں ہو جاتا ہے نا۔انانیت جوش مارتی ہے۔یہ خواہش ہے، پوری ہونی چاہیے۔وہ خواہش ہے ، پوری ہونی چاہیے۔ایک اور خواہش ہے وہ پوری ہونی چاہیے۔جب خواہشات کی اتباع شروع ہوگئی تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ پھر خواہشات کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔جو سب سے زیادہ امیر اس وقت ہماری دنیا میں پایا جاتا ہے اس کے دل میں پھر بھی یہ خواہش ہے کہ کچھ اور مال مجھے مل جائے لیکن جو خدا کے بندے ہیں وہ مال لٹایا کرتے ہیں، فقیر بن کے ہاتھ پھیلا یا نہیں کرتے۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے ہیں، غیر اللہ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہوا کرتے اور قرآن کریم سورۃ الکہف کی آیت ۲۹ میں یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کرنے والا انسان ایسا دل رکھتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے اور جو دل ایک لحظہ کے لئے اپنے رب کی یاد سے غافل ہوا اس نے ہلاکت مول لی۔پانچویں بات خدا تعالیٰ نے ، پانچواں پہلو اس کا یہ بتایا ہے کہ ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنے سے ایمان بالآ خرت جاتا رہتا ہے یعنی قیامت پر ایمان کہ ایک اور زندگی ہوگی جہاں جواب طلبی ہوگی ، جہاں انعامات ملیں گے ، جہاں ایک ابدی زندگی عطا کی جائے گی ، جہاں ایسی