خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 312

خطبات ناصر جلد نهم ۳۱۲ خطبہ جمعہ ۶ /نومبر ۱۹۸۱ء درمیان کوئی تعداد ہے لیکن بہر حال جو گنتی کا اندازہ کم تھا وہی میں بیان کرتا رہا ہوں۔اس سال تو وہ گنتی میں بھی آجائیں گے پونے دولاکھ۔اس عرصہ میں مکان بھی بہت بنے ہیں۔تعمیر کی طرف زور زیادہ رہا۔اور یہ ۷۴ء میں خدا تعالیٰ نے الہاما مجھے کہا تھا۔وَشِعُ مَكَانَك میں نے اس وقت جماعت کو بتا دیا تھا کہ خدا نے کہا ہے کہ یہ جو ۱۹۷۴ء کا منصوبہ بنا تھا استہزاء کا۔ہمیں ذلیل کرنے کا۔اس کے لئے میں کافی ہوں اور میرے مہمانوں کا تم انتظام کرو۔وَشِعُ مَكَانَك تو اللہ تعالیٰ نے اتنی توفیق دی ۷۴ ء میں جو تعمیر کے حالات تھے اس سے ۴۰،۳۰ گنا زیادہ حالات ہو گئے ہیں۔حالات سے مراد ہے پیسہ لوگوں کے پاس آ گیا۔قیمتیں بھی ناجائز طور پر بعض لوگوں نے بڑھا دیں Competition کر کے۔تو مکان بہت بن گئے ہیں۔ضرورتیں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔تو اُسی نسبت سے آپ حصہ لیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بڑا اجر دے گا جیسا کہ میں نے اس آیت میں ساری آیت نہیں پڑھی، اس کا مفہوم بتا دیا ہے کہ اجر عظیم ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اور بشارتیں ان کے لئے۔اگر آپ خدا سے اجر اور اس کی رضا اور اس کی بشارتیں لینا چاہتے ہیں تو ہجرت کے وہ تین مفہوم اور مجاہدہ کے وہ تین مفہوم جو میں نے ابھی بتائے ہیں ان پر آپ کو کار بند ہونا پڑے گا کار بند رہنا پڑے گا۔چونکہ تعداد بڑھ گئی اس لئے یہاں کے رضا کار ہمارے لئے کافی نہیں رہتے انتظامی۔اس لئے پانچ سو مخلص رضا کار باہر سے ہمیں ملنے چاہیں اور ۲۳ کی شام کو جلسہ شروع ہوتا ہے ۲۳ کی دو پہر تک یہاں پہنچ جانے چاہئیں اور حسب قواعد وہ اپنے ساتھ سرٹیفکیٹ لائیں اپنے علاقے کے قائد کا اور جو بھی ہیں اس وقت میرے سامنے نہیں کہ کیا کیا الفضل میں شائع کر دیں گے جلسہ سالانہ والے، اس کے مطابق ہوں۔اخلاص سے کام کرنے والے ہوں۔خدا کا فضل ہے کہ ایک آدھ کے متعلق جلسہ میں شکایت ملتی ہے کہ اُس نے کام ٹھیک نہیں کیا۔بڑے اخلاص کے ساتھ آتے ہیں اور اخلاص سے یہاں کام کرتے ہیں۔پس کمرے دیں۔صفائی کریں۔رضا کارآئمیں چھلانگیں مارتے ہنستے مسکراتے قہقہے لگاتے اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر جو گزر چکے اور امید رکھتے اس بات پر کہ پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضل اُن پر نازل ہوں گے۔پچھلے سال جلسہ کے بعد نظام جلسہ نے مجھے کہا کہ دیگیں ہمارے پاس کم ہیں