خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 18

خطبات ناصر جلد نہم ۱۸ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء قیامت تک اس کتاب عظیم سے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی کے مسائل کو حل نہیں کر سکے گی بلکہ ہر بعد میں آنے والی نسل مجبور ہو گی کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآنِ عظیم کی طرف رجوع کرے۔یہ ایک کامل کتاب اس معنی میں بھی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام مسائل کو حل کرنے کی طاقت اس میں پائی جاتی ہے لیکن محض یہ اعلان نہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ غیر مسلموں کو کوئی تسلی دے سکتا ہے۔ان کے سامنے صرف یہ کہہ دینا کہ قرآن عظیم بڑی ہی عظیم کتاب ہے کیونکہ تمام مسائل کو یہ حل کرتی ہے انہیں تسلی نہیں دے سکتا۔اس تسلی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مثالیں دے کر اُن کو بتائیں کہ یہ عظیم کتاب تمہارے ان مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے اور حل کرتی ہے جنہیں تم حل نہیں کر سکے اپنی زندگی میں۔اس کے لئے یعنی مثالیں دینے کے لئے قرآنِ عظیم کی روح کو سمجھنا، سات سو سے اوپر جو احکام اس میں پائے جاتے ہیں ان پر غور کرنا اور اپنی زندگی ان راہوں پر ڈھالنا جو بیان کی گئی ہیں اور اپنی گردن ان سات سو سے زاید اس زنجیر کے جو حلقے ہیں ان میں باندھ دینا اور جس طرح ایک بکری مجبوراً قصائی کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتی ہے اور کہتی ہے لے چھری چلا لے اس طرح برضا ورغبت پوری بشاشت اور خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کو تسلیم کرنا اور خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنا اور علی وجہ البصیرت اس بات کے قابل ہو جانا کہ غیروں کے سامنے مثالیں دے کر آپ یہ کہیں کہ قرآن عظیم واقع میں عظیم ہے کیونکہ تمہارے یہ دیکھو ایک دو تین جتنی مثالیں اس وقت آپ دے سکیں دے کر ان کو بتا ئیں کہ تم ان مسائل کو حل نہیں کر سکتے ، نہ کر سکے ہولیکن قرآن کریم کی یہ تعلیم انہیں حل کر رہی ہے۔اس کے لئے ہدایت کو سمجھنا، اس پر چلنا ضروری ہے۔ہدایت کو سمجھنے کے لئے قرآن عظیم جو واقع میں عظیم ہے، اپنی تمام عظمتوں اور وسعتوں اور رفعتوں کے ساتھ کہتا ہے کہ مجھے جلدی جلدی مت پڑھو۔علی مُکت ٹھہر ٹھہر کے پڑھو۔رَتِّلِ الْقُرْآنَ ترتيلا (المزمل: ۵) اس ریل کے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ خوب کھول کے بیان کرو۔خوب کھول کر الفاظ کو ادا کر و قرآن کریم کی تلاوت میں کہ تمہارا ذہن بھی قرآن کریم کے حقائق اور معارف کو پہچاننے لگے۔امام رازی نے لکھا ہے کہ ایک ایک حرف ہر لفظ کا علیحدہ علیحدہ جس طرح لڑی میں