خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 17

خطبات ناصر جلد نهم ۱۷ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ کی لطیف تفسیر خطبه جمعه فرموده ۳۰ / جنوری ۱۹۸۱ء بمقام دارالذکر۔لاہور تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآنِ عظیم کا یہ دعویٰ ہے۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ (البقرۃ:۳) یہ ایک کامل کتاب ہے جس میں شک اور شبہ نہیں۔لاریب فیہ کے بہت سے معانی کئے گئے ہیں۔ایک معنی یہ ہیں کہ اس کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں جو حقیقت سے بعید ہوا اور شک اور شبہ والی ہو۔ایک معنی یہ کئے گئے ہیں کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو صاحب فراست ،غور کرنے والوں اور نیک نیتی سے اس کا مطالعہ کرنے والوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نہیں چھوڑتی اور اس راہ کو جو خدا تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہے روشن کر کے خدا کے بندہ کے سامنے رکھ دیتی ہے۔قرآن کریم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ قرآن ہے۔بار بار پڑھی جانے والی کتاب۔بار بار پڑھی جانے والی کتاب کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر فرد پر جو اسلام پر ایمان لا یا اسے اپنی زندگی کی راہوں کو ہموار کرنے کے لئے قرآنِ عظیم کا بار بار مطالعہ کرنا اور اس کو پڑھنا اور اس پر غور کرنا ضروری ہوگا۔اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ہر آنے والی نسل اسے پڑھے گی اس طرح نوع انسانی