خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 304 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 304

خطبات ناصر جلد نہم ۳۰۴ خطبه جمعه ۶ نومبر ۱۹۸۱ء نے لکھ دیا۔تو زبان سے اظہار کرنا اور دل میں ایک پختہ عقیدہ رکھنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا یہ تین چیزیں ایمان کے اندر ان کی یا هَاجَرُوا والی شکل بنتی ہے یا جهَدُوا والی شکل بنتی ہے اور تمام اسلامی تعلیم اور عقائد احکام و اوامران ستونوں کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں۔مفردات راغب میں ہے کہ ہجرت کے معنے ہیں ترک مکان۔اپنا ایک مکان ، رہائش ، جگہ کو چھوڑنا۔انہوں نے کہا دار الکفر سے دارالایمان کی طرف۔یہ اسلامی اصطلاح ہے۔مہاجرین وہ بنے جنہوں نے مکہ کے ماحول کو ، مکہ کی جائیدادوں کو ملکہ کے مکانوں کو، مکہ کے رشتہ داروں کو جو ایمان نہیں لائے تھے چھوڑ دیا اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے سارے تعلقات قطع کر کے اور کسی قسم کے جذبات کا خیال نہ رکھتے ہوئے مکہ چھوڑا اور مدینے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں زندگی گزارنے کے لئے چلے گئے۔مفردات میں راغب لکھتے ہیں کہ ہجرت کے معنی۔هِجْرَانُ الشهوات انہوں نے یہاں تین معنے کئے ہیں۔اہوائے نفس جو ہیں ، شہوات جو ہیں اُن کو ترک کرنا۔اصل اس کے معنی ترک کے ہیں نا۔تو جوا ہوائے نفس ہیں ، شہوات ہیں ، اُن کو چھوڑ دینا ترک کرنا۔دوسرے جو اخلاق ذمیمہ ہیں۔بُرے اخلاق ، گندے اخلاق ، خدا سے دور لے جانے والے اخلاق ، معاشرہ میں فساد پیدا کرنے والے اخلاق، اُن اخلاق ذمیمہ کو ترک کرنا۔وہ کہتے ہیں کہ ہجرت میں یہ بھی شامل ہے۔اور تیسرے معنی ہیں کہ خطا یا کو ترک کر دینا۔یعنی ہر وہ چیز جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے، اُسے چھوڑ دینا۔اب قرآن کریم کی تعلیم اوامر ونواہی پر مشتمل ہے۔تمام نواہی یعنی یہ جو کہا گیا ہے کہ یہ نہ کر، یہ نہ کر، یہ نہ کر ان کا تعلق انہی تین چیزوں سے ہے۔اہوائے نفس کو چھوڑنے کے ساتھ۔اخلاق ذمیمہ کو ترک کرنے کے ساتھ اور خطایا جنہیں کہتے ہیں غلطیاں اور گناہ اور معصیت کے کام ، ان سے عملی بیزاری اور اُن کو چھوڑ دینے کے ساتھ۔اور جهَدُوا مجاہدہ کے بنیادی معنی ہیں مقدور بھر کوشش کرنا۔اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرنا، پورا زور لگا دینا۔اس کے اصطلاحی معنی، اسلامی اصطلاح