خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 303
خطبات ناصر جلد نهم ۳۰۳ خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۱ء ہر فرد کا فرض ہے کہ اہوائے نفس کے خلاف انتہائی کوشش کرے خطبه جمعه فرموده ۶ /نومبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ تو بہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ (التوبۃ :۲۰) جو لوگ ایمان لائے۔جولوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہجرت کی اور وہ لوگ جنہوں نے جہاد کیا اپنے نفوس کے ساتھ بھی اور اپنے اموال کے ساتھ بھی۔انہیں بہت اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رضا کی جو اس زندگی سے شروع ہوتی اور خاتمہ بالخیر ہو تو بغیر تسلسل ٹوٹے ہمیشہ کے لئے ساتھ رہتی ہے اور اُن جنتوں کی جن میں سے ایک، ایک اور شکل میں اس زندگی سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری ایک اور شکل میں مرنے کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتی ہے ہے۔قرآن کریم کی تمام تعلیم اس کے احکام اور او امر و نواہی ، وہ ان باتوں سے جو یہاں بیان ہوئی ہیں تعلق رکھتے ہیں یعنی ایمان ، ہجرت کرنا اور مجاہدہ کرنا خدا کی راہ میں۔ایمان کا تعلق دل سے ہے اور اس کے معنی میں پھر دل کا جو پختہ عقیدہ ہے اُس کا اظہار بھی ہو ساتھ اور جو دل کا پختہ عقیدہ ہے اس کے مطابق اعمال بھی ہوں۔یعنی جوارح بھی لکھنے والوں